12 ستمبر 2025
ویب ڈیسک
ہیڈ پنجند پر دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہونے کے باعث انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ہے جس نے اوچ شریف اور گردونواح کے کئی دیہات کو لپیٹ میں لے لیا۔ سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے سے مقامی افراد نے ہاتھوں سے بنائی گئی کشتیاں استعمال کرتے ہوئے سامان اور مویشی منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔
سیلابی ریلے سے موضع گمانی، بختیاری اور بلہ جھلن سمیت متعدد دیہات زیرآب آ گئے ہیں جبکہ اس کے باوجود کافی تعداد میں لوگ بستیوں سے نکلنے کے بجائے وہیں موجود ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مسلسل مصروف ہیں تاہم متاثرہ علاقوں سے سامان اور مویشی نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق موضع بختیاری میں 30 سالہ محمد اختر مویشی منتقل کرتے ہوئے پانی کے تیز بہاؤ میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد لاش برآمد کی۔
چشتیاں میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں چک دلہ بھڈیرا کے قریب 38 سالہ محمد حسین نامی نوجوان ٹائیر ٹیوب پر بیٹھ کر قریبی بستی جا رہا تھا لیکن پانی کے دباؤ سے ٹیوب پھسل گئی اور وہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے تلاش شروع کر دی ہے مگر تاحال اس کی لاش نہیں مل سکی۔
فلڈ کنٹرول روم کے مطابق ہیڈ پنجند سے نکلنے والا بڑا سیلابی ریلا کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو رہا ہے جس سے سندھ میں بھی اونچے درجے کا سیلاب برپا ہے۔ اس وقت کوٹ مٹھن کے مقام پر پانی کا بہاؤ تقریباً سات لاکھ کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائے سندھ کے کچے کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق جب تک دریا کا پانی معمول پر نہیں آتا متاثرین کو واپس گھروں میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
