اگرچہ بخار ان افراد کے لیے ایک غیر آرام دہ اور تکلیف دہ حالت ہے جو اس میں مبتلا ہوتے ہیں، اور بعض اوقات یہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے، لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ جسم کے دفاعی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب رات کے تین بجے بے خوابی کے دوران پسینہ بہنے لگے، کپکپی طاری ہو جائے اور جسم میں شدید گرمی محسوس ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ جسم کے اندر کوئی خرابی پیدا ہو چکی ہے۔ ایسے میں اکثر لوگ اپنے آپ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ’’یہ صرف بخار ہے۔‘‘
تحقیقات کے مطابق بخار ایک ارتقائی عمل ہے جو 600 ملین سال سے زائد پرانا ہے۔ یہ وائرل، بیکٹیریل اور فنگل انفیکشنز کی ایک عام علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر زیادہ تر افراد نے انفلوئنزا کے دوران بخار کا تجربہ ضرور کیا ہے۔
تاریخی طور پر بخار کو سنگین اور مہلک بیماریوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔ کئی امراض کے نام میں بخار شامل ہے، جیسے سرخ بخار، ڈینگی بخار، زرد بخار، لاسا بخار اور دیگر۔
علاج کے طور پر خون بہنا:
ہیلتھ کیئر محقق اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی طب کی تاریخ دان سیلی فریمپٹن کے مطابق ہمارے آباؤ اجداد بخار کے خطرات سے بخوبی آگاہ تھے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آج ہم جانتے ہیں کہ بخار جسم میں کسی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم قدیم زمانے اور 19ویں صدی تک لوگ بخار کو ایک علیحدہ بیماری سمجھتے تھے۔
قدیم یونانی بخار کے علاج کے لیے مختلف طریقے اپناتے تھے، جن میں زبردستی روزہ رکھوانا اور خون نکالنا شامل تھا۔ یہ طریقے 19ویں صدی تک بخار کو کم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے رہے۔
سیلی فریمپٹن کے مطابق بخار کو سمجھنے میں بڑی تبدیلی جراثیم کے نظریے کے ظہور کے بعد آئی۔ اس کے بعد بخار کو ایک علیحدہ بیماری کے بجائے کسی مخصوص مرض کی علامت سمجھا جانے لگا۔
ماہرین کے مطابق بخار کو اب جسم کے قدرتی مدافعتی نظام کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو انفیکشنز کے خلاف جسم کا دفاعی ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ بخار اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ جراثیم یا بیکٹیریا جسم پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بخار اُن کے خلاف مزاحمت کر کے جسم کو ان سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے۔
