ایشیز سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے بعد انگلینڈ کے سابق کپتان جیفری بائیکاٹ نے ایک بار پھر اپنی ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ تکبر اور حد سے زیادہ خود اعتمادی نے کامن سینس کی جگہ لے لی ہے، اور اگر ٹیم میں بروقت تبدیلیاں نہ کی گئیں تو ناکامیاں اسی طرح جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بین اسٹوکس اور برینڈن میکلم نے انگلینڈ کرکٹ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے، اور ان کے مطابق ہیڈ کوچ برینڈن میکلم کو اب عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
کھلاڑیوں پر تنقید کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ اگر موجودہ حکمتِ عملی کارآمد ثابت نہیں ہو رہی تو مزید غلطیوں پر اصرار کرنے کے بجائے راستہ بدلنا ہوگا، کیونکہ آگے بڑھنے کے لیے تبدیلی ناگزیر ہے۔
جیفری بائیکاٹ کا کہنا تھا کہ بین اسٹوکس ایک ورلڈ کلاس آل راؤنڈر ہیں جنہیں کوئی بھی کھونا نہیں چاہتا، تاہم اگر وہ اپنا رویہ اور اپروچ درست نہیں کرتے تو نئے کپتان کی تلاش ضروری ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہیری بروک کو ٹیم کا کپتان بنتے نہیں دیکھنا چاہتے، کیونکہ جو خود غیر ذمہ دارانہ شاٹس کھیلتا ہو وہ دوسرے بیٹرز کو ذمہ داری کا درس نہیں دے سکتا۔
سابق کپتان کے مطابق اگر ٹیم میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی تو انگلینڈ کرکٹ اسی ڈگر پر چلتی رہے گی، کھلاڑی سہل پسندی کا شکار ہو چکے ہیں اور بار بار ایک ہی غلطیاں دہرا رہے ہیں۔
آخر میں جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ زیادہ تر کھلاڑیوں کو کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے لیے بھیجا جانا چاہیے اور کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹس پر بھی نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔
