دنیا کے آرٹ مارکیٹ میں ایک بڑا سنگِ میل اس وقت قائم ہوا جب میکسیکن مصورہ فریدا کہلو کی معروف سیلف پورٹریٹ “دی ڈریم (دی بیڈ)” تقریباً 54.66 ملین ڈالر میں نیویارک کی ایک نیلامی میں فروخت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ پینٹنگ کسی بھی خاتون فنکار کی سب سے مہنگی فروخت ہونے والی آرٹ ورک بن گئی۔
یہ شاہکار 1940 میں تخلیق کیا گیا تھا، اُس وقت جب کہلو شدید جسمانی تکلیف اور جذباتی اتار چڑھاؤ سے گزر رہی تھیں۔ پینٹنگ میں وہ ایک کُندہ کاری والے بستر پر لیٹی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ بستر کے اوپر ایک ڈھانچہ (اسکلٹن) بارودی مواد کے ساتھ بندھا ہوا موجود ہے — ایک ایسا منظر جو زندگی، موت اور درد کے اُس فلسفے کو ظاہر کرتا ہے جو کہلو کی شناخت کا حصہ رہا ہے۔
یہ پینٹنگ کئی دہائیوں تک نجی ملکیت میں رہی اور شاید اسی وجہ سے عوام کی نظر سے اوجھل رہی۔ اس کی نایابی اور فریدا کہلو کی بڑھتی عالمی مقبولیت نے اسے نیلامی میں غیر معمولی قیمت پر پہنچا دیا۔
اس فروخت نے نہ صرف جارجیا او کیف کی 2014 میں بنائی گئی 44.4 ملین ڈالر کی پینٹنگ کا ریکارڈ توڑ دیا بلکہ فریدا کہلو کی اپنی سابقہ بلند ترین قیمت — 2021 میں “ڈیئیگو وائی یو” کی 34.9 ملین ڈالر کی فروخت — کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
فنی دنیا کے لیے یہ لمحہ محض ایک بڑی نیلامی نہیں، بلکہ ایک تاریخی اعتراف بھی ہے۔ دہائیوں تک خواتین فنکاروں کے کام کو کم تر قیمتوں پر بیچا گیا، لیکن کہلو کی اس فروخت نے ثابت کیا ہے کہ عالمی آرٹ مارکیٹ اب آخرکار اُن کے تخلیقی اثرات کو تسلیم کر رہی ہے۔
فریدا کہلو کی زندگی دکھ، بیماری اور جدوجہد سے بھری تھی، لیکن انہوں نے اپنے درد کو آرٹ میں ڈھالا — ایسا آرٹ جو آج بھی پوری دنیا کے دلوں کو چھوتا ہے۔
اس پینٹنگ کی ریکارڈ توڑ فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ کہلو کی آواز آج پہلے سے کہیں زیادہ گونج رہی ہے۔
خریدار کا نام سامنے نہیں آیا، اور یہ بھی ابھی تک واضح نہیں کہ پینٹنگ پھر کب عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔ مگر ایک بات یقینی ہے: فریدا کہلو کی میراث مزید مضبوط ہوگئی ہے — چاہے قیمت کے اعتبار سے ہو یا اثر کے اعتبار سے۔
