اسکردو/گلگت: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کو کسی بھی آئندہ آئینی ترمیم میں مکمل تحفظ دیا جانا چاہیے، اور خطے کے شہریوں کو ان کے سیاسی، آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے دوران جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ خطے سے متعلق کوئی بھی آئینی تبدیلی عوام کی رضامندی سے ہونی چاہیے، تاکہ ان کی شناخت اور نمائندگی محفوظ رہے۔
بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ گلگت بلتستان کے لیے زیادہ آئینی تحفظات کی حامی رہی ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی کوئی بھی نئی ترمیم خطے کے حقوق کی ضمانت دے، انہیں کمزور نہ کرے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 7 جون 2026 کو ہونے والے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سمیت بڑی سیاسی جماعتیں ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔
بلاول نے سابق حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے بارے میں فیصلے اکثر مقامی عوام اور قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار حل صرف جمہوری مشاورت اور عوامی خواہشات کے احترام سے ہی نکل سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پاکستان کے حساس ترین انتظامی اور سیاسی معاملات میں شامل ہے۔ گزشتہ برسوں میں خطے کو زیادہ خودمختاری اور نمائندگی دینے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور آتی رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ آئینی اصلاحات سے جمہوری ادارے مضبوط ہونے چاہئیں اور گلگت بلتستان کے عوام کو وہی حقوق ملنے چاہئیں جو ملک کے صوبوں کے شہریوں کو حاصل ہیں۔
انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں آئینی حقوق، مقامی حکمرانی، ترقیاتی منصوبے اور وفاقی اداروں میں نمائندگی ووٹرز کے اہم مسائل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
