مظفرآباد — وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور جلد حتمی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے لکھا کہ ’’آزاد جموں و کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں، معاہدے پر جلد دستخط ہو جائیں گے۔ عوامی مفاد اور امن ہماری اولین ترجیح ہیں۔‘‘
مظفرآباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں حکومتی ٹیم میں سینیٹر رانا ثنا اللہ، احسن اقبال، سردار یوسف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، قمر زمان کائرہ اور انجینئر امیر مقام شامل تھے۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی شوکت نواز میر، راجہ امجد ایڈووکیٹ اور انجم زمان نے کی جبکہ آزاد کشمیر حکومت کی مذاکراتی کمیٹی بھی اجلاس میں شریک رہی۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس سے قبل کہا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیادہ تر مطالبات پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں، صرف چند نکات ایسے ہیں جن کے لیے آئینی ترامیم درکار ہیں اور ان پر بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں، ہمیں امید ہے تمام معاملات پرامن مکالمے سے حل ہوں گے۔‘‘
یاد رہے کہ تین روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا۔ پچھلے ہفتے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے تھے جب عوامی ایکشن کمیٹی نے اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں میں کمی کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد احتجاجی تحریک میں کشیدگی اور تشدد دیکھنے میں آیا۔
ابھی تک معاہدے پر باضابطہ دستخط باقی ہیں، لیکن پیش رفت نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں حالات معمول پر آنے کی امید پیدا کر دی ہے۔
