کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے منگل کے روز گل پلازہ آتشزدگی کیس میں نامزد تنویر پاشا اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی، جس کے بعد سماعت اب اگلے ماہ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
عدالت کے اس فیصلے نے ملزمان کو اپنے دفاع کی تیاری کے لیے مزید مہلت دے دی ہے، جبکہ شہر کے معروف شاپنگ سینٹر کو راکھ کا ڈھیر بنانے والے اس واقعے کی تحقیقات کا عمل تاحال سست روی کا شکار ہے۔
کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز میں لگنے والی اس آگ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اور عمارت میں حفاظتی انتظامات کی سنگین کوتاہیاں کھل کر سامنے آئیں۔ تفتیشی حکام کی توجہ اس نکتے پر مرکوز ہے کہ آیا پلازہ میں کی گئی تعمیراتی تبدیلیاں فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی تھیں یا نہیں۔ قانونی جنگ اسی محور کے گرد گھوم رہی ہے۔
تنویر پاشا اور دیگر ملزمان نے مجرمانہ غفلت کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ان کے وکلاء کا موقف ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا، نہ کہ غیر قانونی تعمیرات کا نتیجہ۔ عدالت میں آج بھی ان کے قانونی مشیروں نے یہی دلیل دہرائی کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہے ہیں، لہٰذا ضمانت میں مزید توسیع کی جائے۔
دوسری جانب، مقدمے کی سست روی پر استغاثہ کو تنقید کا سامنا ہے۔ جن دکانداروں نے اس سانحے میں اپنی جمع پونجی اور کاروبار کھوئے، وہ انصاف کے منتظر ہیں اور اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حفاظتی انتظامات میں غفلت برتنے والوں کا احتساب کیوں نہیں ہو رہا۔
عدالت نے اگلی سماعت تک ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو جائے وقوعہ سے جمع کیے گئے فرانزک شواہد پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس رپورٹ کی عدم موجودگی میں ملزمان کی قانونی حیثیت بدستور غیر یقینی ہے، جس سے متاثرہ دکانداروں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور انصاف کی فراہمی کا عمل ایک طویل انتظار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
