حیدرآباد / سندھ
14 جولائی 2025:
سندھ بھر میں آج علی الصبح شدید بارشوں اور تیز آندھیوں نے تباہی مچا دی، جب کہ حیدرآباد میں بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کے باعث شہر کے متعدد علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ ڈپٹی کمشنر ذین العابدین نے کلاؤڈ برسٹ کی تصدیق کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
حیدرآباد، ٹنڈو اللہ یار، ٹنڈو محمد خان، جامشورو، مٹیاری اور ہالا میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔ حیدرآباد میں 50 سے زائد ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ بعض علاقوں میں پانی کی سطح کئی فٹ تک جا پہنچی۔
ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر فقیلی کینال میں پانی کی سطح کم کرکے صفر کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ شہر میں نکاسی آب کے بیشتر پمپنگ اسٹیشنز بجلی بند ہونے کے باعث غیر فعال ہوگئے، جنہیں جنریٹرز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے مطابق 220 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے، جس سے وسیع پیمانے پر بجلی کی بندش ہوئی۔ متاثرہ علاقوں میں پانی کی نکاسی میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، جبکہ شہریوں کو پینے کے پانی سمیت بنیادی سہولیات کی قلت کا سامنا ہے۔
لکڑی بازار میں ایک گودام کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ دیگر علاقوں سے بھی دیواریں گرنے اور پانی کے باعث حادثات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ٹنڈو اللہ یار میں بارش کے بعد مکانات میں پانی بھر گیا، جس سے رہائشیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ متعدد سڑکیں بند ہو چکی ہیں اور ٹریفک کا نظام بھی شدید متاثر ہے۔
ادھر خیبر پختونخوا میں بھی محکمہ موسمیات نے طوفانی بارشوں اور ممکنہ فلیش فلڈز کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں 15 سے 17 جولائی تک مزید بارشوں کا امکان ہے، جس سے شہری سیلابی کیفیت مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور میونسپل حکام مسلسل صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، مگر شہری حلقوں کی جانب سے دیر سے ردعمل، ناقص انفراسٹرکچر اور نکاسی آب کے کمزور نظام پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
