برطانیہ کے نایاب ترین شکاری پرندے ‘ہین ہیریئر’ نے ملک کے ایک انتہائی خفیہ مقام پر تین چوزوں کو کامیابی سے پال لیا ہے۔ تحفظِ ماحول کے ماہرین نے اس پیش رفت کو پرندوں کی اس معدوم ہوتی نسل کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
اس نایاب پرندے کی حفاظت کے لیے حکام نے مقام کا نام اور جغرافیائی حدود صیغہ راز میں رکھی ہیں۔ اس احتیاط کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں ان پرندوں کے انڈوں کی چوری اور انہیں غیر قانونی طور پر ہلاک کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
ایک فیلڈ آفیسر نے اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ان تین چوزوں کا پرواز کے قابل ہونا ہمارے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ یہ پرندے اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں انتہائی حساس ہوتے ہیں، مگر انہوں نے بقا کی سب سے بڑی رکاوٹ عبور کر لی ہے۔”
برطانیہ میں ہین ہیریئر کی آبادی گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل زوال کا شکار ہے۔ ان پرندوں کی بقا کا مسئلہ اکثر تحفظِ ماحول کے حامیوں اور تجارتی شکار کے شوقین افراد کے درمیان تنازعہ کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پرندوں کے لیے محفوظ گھونسلے بنانا ایک مشکل چیلنج ہے، کیونکہ زرعی زمینوں اور شکاری مقامات پر ان کی موجودگی کو اکثر ناپسند کیا جاتا ہے۔
اس بار پرندوں کی حفاظت کے لیے 24 گھنٹے نگرانی کا نظام قائم کیا گیا تھا۔ یہ حکمتِ عملی اب ایک ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ ماضی میں کئی گھونسلے راتوں رات غائب ہو چکے ہیں۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایک کامیاب افزائشِ نسل کا مطلب یہ نہیں کہ پرندوں کی یہ نسل خطرے سے باہر ہو چکی ہے۔
اب یہ تینوں چوزے اپنی آزادانہ زندگی کے لیے تیار ہیں اور گھاس کے میدانوں میں شکار کی مشق کر رہے ہیں۔ یہ منظر، جو کبھی برطانیہ کے دیہی علاقوں میں عام ہوا کرتا تھا، اب ایک ایسی نایاب کامیابی ہے جس کے لیے سائنسدانوں اور رضاکاروں نے برسوں جدوجہد کی ہے۔ آنے والے موسمِ سرما میں ان پرندوں کی نقل مکانی اور شکاریوں سے بچاؤ ان کے لیے اگلا بڑا امتحان ہوگا۔
