ہانگ کانگ: چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے اپنا نیا وان 3.0 مصنوعی ذہانت ویڈیو بنانے والا ماڈل متعارف کرا دیا ہے، جبکہ کمپنی نے عالمی مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں سرمایہ کاری بڑھانے کا سلسلہ بھی تیز کردیا ہے۔
علی بابا کے مطابق وان 3.0 کو 6 اگست کو عوامی آزمائشی مرحلے میں متعارف کرانے کے بعد مختصر ڈراموں اور فلموں، اشتہارات و تشہیری مہمات، سیاحت کے فروغ اور موسیقی کی ویڈیوز کی تیاری میں استعمال کیا جاچکا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ نیا ماڈل دستاویزات، اسپریڈ شیٹس، پریزنٹیشن سلائیڈز اور ویب صفحات سے 30 سیکنڈ تک کی ویڈیوز تیار کرسکتا ہے، جس سے مختلف اقسام کے مواد کو ویڈیو میں تبدیل کرنا آسان ہوجائے گا۔
وان 3.0 کا اجرا ایک روز بعد ہوا جب علی بابا نے ہانگ کانگ میں 10.2 ارب ڈالر مالیت کے نئے حصص جاری کرنے کا اعلان کیا۔ کمپنی اس رقم کو اپنی عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرے گی۔
یہ حصص کی فروخت ہانگ کانگ میں درج کسی کمپنی کی جانب سے بنیادی حصص کی سب سے بڑی اضافی پیشکش قرار دی جارہی ہے۔
علی بابا اپنی اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، خصوصاً کیوون، پر بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔ سرمایہ کار اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کمپنی مصنوعی ذہانت میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری سے کس طرح مالی فائدہ حاصل کرے گی۔
علی بابا نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری میں نمایاں اضافے کے باعث سہ ماہی منافع میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 75 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ ٹوکیو، شنگھائی، تائپے اور ویلنگٹن کی منڈیاں مندی کا شکار رہیں جبکہ سڈنی، جکارتہ اور بینکاک میں تیزی رہی۔ منیلا اور کوالالمپور میں نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی۔
ہانگ کانگ کی مارکیٹ میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، حالانکہ تیز رفتار فیشن کے شعبے کی معروف کمپنی شین نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ہانگ کانگ میں حصص کی ابتدائی فروخت یکم ستمبر کو ہوگی۔ طویل عرصے سے زیرِ انتظار اس فہرست میں شامل ہونے کے عمل کے بعد کمپنی کی قدر تقریباً 27 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔
سرمایہ کار امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، جو ایران پر مزید اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے واشنگٹن کے نئے اقدامات کی تفصیلات پیش کرنے والے ہیں۔
امریکا نے اپنے اتحادی ممالک اور چین سے بھی کہا ہے کہ وہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی مہم میں شامل ہوں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو تقریباً چھ ماہ ہونے والے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس حکمت عملی کو ایک نازک توازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
چین پر امریکی دباؤ سے متعلق سوال پر اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ بعض معاملات پر نجی طور پر بات کرنا بہتر ہوتا ہے، تاہم انہوں نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ امریکی مؤقف کی حمایت کرے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی۔ دونوں بڑی اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2.3 فیصد کمی ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل تقریباً 92 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
سرمایہ کار امریکا میں جیکسن ہول کے مقام پر ہونے والے مرکزی بینکوں کے سربراہان، ماہرین اقتصادیات اور مالیاتی حکام کے سالانہ اجلاس پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جہاں امریکی مالیاتی پالیسی کے مستقبل کے بارے میں مزید وضاحت ملنے کی توقع ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ ہفتے قرض لینے کی لاگت کم کرنے کی کوشش میں اپنے ہی بانڈز کی خریداری کی تھی۔ اس سے قبل 30 سالہ امریکی بانڈ کی شرح منافع 2007 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔
افراطِ زر کے خدشات کے باعث بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکا نے حال ہی میں بتایا ہے کہ اس کا وفاقی قرض 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔
