واشنگٹن — دوا ساز کمپنی مرک نے ایڈز کا سبب بننے والے وائرس سے بچاؤ کے لیے مہینے میں صرف ایک بار کھائی جانے والی تجرباتی دوا ‘ایلیماٹراویر’ کی غریب ممالک تک سستی رسائی کے لیے ایک بڑے عالمی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دوا اس وقت دنیا کے 16 ممالک میں دو بڑے کلینیکل ٹرائلز کے مراحل سے گزر رہی ہے، جن میں سب سے زیادہ توجہ افریقہ کی خواتین اور نوجوان لڑکیوں پر دی جا رہی ہے۔ ابتدائی طبی ابحاث سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گولی کھانے کے ایک گھنٹے کے اندر ہی اثر کرنا شروع کر دیتی ہے اور ایک ماہ تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس دوا کی خاص بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مقررہ تاریخ سے ایک ہفتہ تاخیر سے بھی یہ گولی کھائے، تب بھی یہ وائرس کے خلاف مؤثر رہتی ہے۔
ایک غیر معمولی اور تاریخی اقدام کے تحت، مرک کمپنی نے دوا کے منظور ہونے سے پہلے ہی افریقہ اور بھارت کی 7 مقامی کمپنیوں کے ساتھ بغیر کسی فیس کے لائسنسنگ کا معاہدہ کر لیا ہے تاکہ وہ اس دوا کو 129 غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لیے سستے داموں تیار کر سکیں۔ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی افریقی دوا ساز کو دوا کی تیاری کے ابتدائی مرحلے سے ہی شامل کیا گیا ہو۔ دنیا بھر میں اس وائرس کے شکار کروڑوں مریضوں میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق افریقی خطے سے ہے۔ اگرچہ اس جدید ترین دوا کے حتمی ٹرائلز کے نتائج اگلے سال کے دوسرے حصے میں آئیں گے، لیکن کمپنی نے ابھی سے بڑے پیمانے پر تیاری شروع کر دی ہے تاکہ منظوری ملتے ہی سستی متبادل ادویات مارکیٹ میں لائی جا سکیں۔
