"زمین کی قدیم ترین زندگی کے آثار دریافت”
سائنسدانوں نے زمین پر زندگی کے ابتدائی آثار دریافت کرنے کے لیے ایک نئے طریقہ کار کا استعمال کیا ہے، جو قدیم چٹانوں میں موجود حیاتیاتی "فنگر پرنٹس” کی شناخت کرتا ہے۔ یہ جدید طریقہ، جو مشین لرننگ سے طاقتور ہے، نے جنوبی افریقہ کی چٹانوں میں 3.3 ارب سال پرانے حیاتیاتی نشانات دریافت کیے ہیں، جو زمین کی قدیم زندگی کے سب سے مضبوط شواہد ہیں اور ہمارے سیارے سے باہر زندگی کی تلاش کے امکانات کو بھی کھولتے ہیں۔
محققین نے جنوبی افریقہ کی چٹانوں میں ابتدائی مائیکروب کے مالیکیولر شواہد تلاش کیے، جن میں 2.5 ارب سال پرانی آکسیجن پیدا کرنے والی فوٹوسنتھیسز کے آثار بھی شامل ہیں۔ یہ دریافتیں نہ صرف فوٹوسنتھیٹک زندگی کے وقت کو کئی لاکھ سال پہلے لے جاتی ہیں بلکہ سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہیں کہ کس طرح زمین کا ماحول آہستہ آہستہ آکسیجن سے بھر کر پیچیدہ زندگی کے لیے موزوں ہوا۔
یہ طریقہ کار مشین لرننگ کے ذریعے حیاتیاتی اور غیر حیاتیاتی مالیکیولز میں فرق پہچانتا ہے، جس میں 90% سے زیادہ درستگی حاصل ہوتی ہے۔ محققین کے مطابق، انسانی آنکھ صرف چھوٹے مالیکیولز کے "پییکس” دیکھ سکتی ہے، لیکن الگورتھم ان پوشیدہ پیٹرنز کو تلاش کرتا ہے جو کبھی زندگی سے تعلق رکھتے تھے۔
کارنیگی انسٹیٹیوٹ کے معدنیات اور آسٹرو بایولوجی کے ماہر، رابرٹ ہیزن کے مطابق یہ دریافت ایک "پیراڈائم شفٹ” ہے، کیونکہ یہ تکنیک ابتدائی زندگی کے چھوٹے شواہد کو بھی شناخت کر سکتی ہے، یہاں تک کہ جب اصل مالیکیولز مکمل طور پر ٹوٹ چکے ہوں۔
اب تک سائنسدان زمین کی ابتدائی زندگی کے شواہد تلاش کرنے کے لیے زیادہ تر نایاب فوسلز جیسے 3.5 ارب سال پرانے اسٹروماٹولائٹس پر انحصار کرتے تھے، جو آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں پائے گئے۔ لیکن فوسلز بہت کم دستیاب ہیں، اس لیے کیمیائی شواہد اب ایک اہم اور زیادہ مؤثر ذریعہ بن گئے ہیں۔
اس مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی کے آثار اب دوگنی عمر کی چٹانوں میں بھی پہچانے جا سکتے ہیں۔ یہ طریقہ نہ صرف زندگی اور غیر زندگی میں فرق کر سکتا ہے بلکہ مختلف قسم کی زندگی، جیسے فوٹوسنتھیٹک مائیکروبز کو بھی شناخت کر سکتا ہے۔
زمین سے باہر، یہ طریقہ مریخ، اینسیلاڈس، ٹائٹن یا یورپا پر مستقبل کے مشنوں کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ ناسا نے اس تکنیک کی مزید ترقی کے لیے تعاون کیا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا دور دراز کے چاند یا مریخ کی سطح پر کبھی زندگی موجود تھی یا اب بھی موجود ہے۔
محققین کا ماننا ہے کہ یہ آلہ ایک دن یہ تصدیق کر سکتا ہے کہ شمسی نظام میں کہیں زندگی موجود تھی یا شاید آج بھی موجود ہے۔
