برسلز: یورپی کمیشن اپنے تاریخی مصنوعی ذہانت ایکٹ کے نفاذ میں تاخیر پر غور کر رہا ہے، کیونکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی لابنگ اور ٹرمپ انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے یورپی حکام کو نرمی پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ قانون جو دنیا کا پہلا جامع ضابطہ ہے جو مصنوعی ذہانت کو منظم کرتا ہے اگست 2024 میں نافذ کیا گیا تھا۔ تاہم، اس کے زیادہ تر ضوابط جو ہائی رسک AI سسٹمز سے متعلق ہیں، اگست 2026 میں مؤثر ہونا تھے۔ اب یورپی حکام ایک سال کی “گریس پیریڈ” دینے پر غور کر رہے ہیں تاکہ کمپنیاں آسانی سے نئے اصولوں کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، کمیشن شفافیت اور حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں کے نفاذ کو اگست 2027 تک مؤخر کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ کمیشن کے اندرونی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جن کمپنیوں کے AI سسٹم پہلے سے مارکیٹ میں موجود ہیں، انہیں مطابقت پیدا کرنے کے لیے اضافی وقت دیا جا سکتا ہے۔
ایم لیکس نیوز ایجنسی کے مطابق، یورپی یونین ہائی رسک AI ڈیویلپرز کے لیے نگرانی کے ضوابط کو نرم اور زیادہ لچکدار بنانے کی تیاری میں ہے۔
یہ تجاویز 19 نومبر کو جاری کیے جانے کی توقع ہے، لیکن حتمی منظوری یورپی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے AI قوانین نے “امریکی ٹیکنالوجی کو نقصان یا امتیاز” پہنچایا، تو واشنگٹن تجارتی ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔
دوسری جانب میٹا جو فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ہے نے کمیشن کے AI کوڈ آف پریکٹس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کمپنی کے نائب صدر جوئیل کیپلن کا کہنا ہے کہ “یورپ غلط سمت میں جا رہا ہے” اور یہ قانون “قانونی ابہام پیدا کرتا ہے۔”
ادھر درجنوں یورپی کمپنیوں، جن میں ایئر بس، لفتھانزا اور مرسڈیز بینز شامل ہیں، نے بھی دو سال کی تاخیر کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ قانون کو “سادہ، قابلِ عمل اور مسابقتی” بنایا جا سکے۔
