کینیڈا : دنیا کی سات بڑی جمہوریتوں کے وزرائے خارجہ نے کینیڈا میں ہونے والی دو روزہ جی-سیون کانفرنس کے دوران یوکرین کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ امریکہ سے متعلق تجارتی اور عسکری تنازعات پر خاموشی اختیار کی۔
امریکی سرحد کے قریب منعقدہ اجلاس میں کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، اور جاپان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ یوکرین، بھارت، برازیل اور یورپی یونین کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
یوکرین کے وزیرِ خارجہ انڈری سیبِیہا نے مغربی ممالک سے امداد جاری رکھنے کی اپیل کی، کیونکہ ان کے ملک کو روسی فضائی حملوں کے باعث توانائی کے شدید بحران اور سخت سردیوں کا سامنا ہے۔
“ہمیں روس پر دباؤ بڑھانا ہوگا تاکہ صدر پیوٹن کے لیے اس جنگ کو جاری رکھنا مہنگا ثابت ہو اور وہ اسے ختم کرے،” سیبِیہا نے زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے اور ان افراد پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے عزم کا اظہار کیا جو ماسکو کی جنگی مشینری کو مالی مدد فراہم کر رہے ہیں۔
کینیڈا نے روسی ڈرون پروگرام سے وابستہ افراد پر نئی پابندیاں لگائیں، جبکہ برطانیہ نے یوکرین کے تباہ شدہ توانائی نظام کی بحالی کے لیے اضافی مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بتایا کہ مذاکرات کا مرکز یوکرین کے دفاع کو مضبوط بنانا اور جنگ کے خاتمے کی راہ تلاش کرنا تھا، تاہم کوئی نئی امریکی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔
کینیڈین وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے کہا، “ہم یوکرین کی مدد کے لیے جو بھی ضروری ہوگا، وہ کریں گے۔”
تجارتی تنازعہ زیرِ بحث نہ آیا
واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان بڑھتی کشیدگی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی مذاکرات اچانک ختم کرنے کے بعد پیدا ہوئی اجلاس کے دوران زیربحث نہیں آئی۔
ٹرمپ کا یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب اونٹاریو حکومت نے امریکہ میں اینٹی ٹیرِف مہم چلائی، جس پر صدر ناراض ہوگئے تھے۔
انیتا آنند نے کہا، “میں یہاں جی-سیون کے مشترکہ ایجنڈے پر بات کرنے آئی ہوں، نہ کہ دوطرفہ تنازعات پر۔”
امریکی فوجی کارروائیوں پر خاموشی
امریکی وفد کو کریبیئن اور مشرقی بحرالکاہل میں مبینہ منشیات اسمگلروں کے خلاف فضائی حملوں پر بھی تنقید کا سامنا ہے، جن میں ستمبر سے اب تک 75 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
امریکی کانگریس کے بعض اراکین نے ان کارروائیوں کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے ہیں۔
تاہم روبیو نے کہا کہ “یہ موضوع اجلاس میں ایک بار بھی زیرِ بحث نہیں آیا” اور اس خبر کی تردید کی کہ برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ معطل کر دی ہے۔
“کچھ بھی ایسا نہیں ہوا جو ہماری کارروائیوں میں رکاوٹ بنے،” روبیو نے واضح کیا۔
یوکرین پر عالمی اتفاق
اگرچہ اجلاس نے کئی حساس عالمی موضوعات سے گریز کیا، مگر اختتام پر وزرائے خارجہ نے یوکرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ جنگ کے اس مشکل مرحلے میں یوکرین کو انسانی، معاشی اور عسکری امداد کی فراہمی جاری رکھی جائے گی، تاکہ روسی جارحیت کے خلاف اس کا دفاع مضبوط بنایا جا سکے۔
