ایران نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ میں بمباری کا نشانہ بننے والے جوہری مقامات کی نگرانی کے لیے ایک نیا اور محفوظ طریقہ کار ضروری ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق روایتی معائنہ طریقہ اس لیے مؤثر نہیں رہا کیونکہ تنصیبات شدید حملوں سے تباہ ہوئیں اور اب وہاں سنگین خطرات موجود ہیں۔
دی اکانومسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں عراقچی نے بتایا کہ مغربی ممالک ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے، آئی اے ای اے، کے معائنہ کاروں کو ان مقامات تک رسائی دے۔ ان کے مطابق ان تنصیبات میں اب بھی بغیر پھٹے ہوئے ہتھیار، میزائلوں کا ملبہ اور تابکاری کے خدشات موجود ہیں، اس لیے ایک نیا معائنہ فریم ورک ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ امریکہ کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر کوئی ان مقامات کے قریب گیا تو حملہ ہوسکتا ہے۔
یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب جون کے وسط میں اسرائیل نے ایران کے جوہری ڈھانچے پر غیر معمولی فضائی حملے کیے، جس کے بعد 12 روزہ جنگ چھڑ گئی۔ اس دوران امریکہ نے بھی محدود حملے کیے۔ جنگ کے بعد ایران نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی رسائی سختی سے محدود کر دی۔
ستمبر میں قاہرہ میں ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کا ایک فریم ورک طے پایا تھا، لیکن گزشتہ ماہ یہ معاہدہ اس وقت ختم ہو گیا جب برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت معطل کی گئی اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ بحال کرنے کا عمل شروع کیا۔
جمعرات کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے ایک قرارداد منظور کی جس میں ایران سے “مکمل اور فوری تعاون” کے ساتھ حساس جوہری مقامات تک رسائی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
