امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں اپنے کردار کا دعویٰ دہراتے ہوئے اسے اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے پرانے بیان میں نئی تفصیلات شامل کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع میں ’’آٹھ طیارے مار گرائے گئے‘‘ جو ان کے پچھلے دعوے سے ایک زیادہ ہیں۔
فلوریڈا کے شہر میامی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے دونوں ایٹمی ممالک نے صرف ان کی مداخلت اور تجارتی دباؤ کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ انہوں نے فخر سے کہا، ’’اگلے دن مجھے کال آئی کہ ‘ہم نے امن قائم کر لیا ہے’۔‘‘
ٹرمپ نے بتایا کہ جب وہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر بات کر رہے تھے تو انہیں اطلاع ملی کہ دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر ہیں۔ ’’یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ میں نے صاف کہہ دیا جب تک امن نہیں ہوتا، کوئی تجارتی معاہدہ نہیں ہوگا،‘‘ انہوں نے کہا، یہ بھی بتایا کہ ان کے اس موقف نے دونوں حکومتوں کو حیران کر دیا۔
ٹرمپ کے مطابق یہ گفتگو 9 مئی 2025 کو ہوئی اور اگلے ہی دن 10 مئی کو دونوں ممالک نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے خوشی سے کہا، ’’یہ کمال ٹیرف کا تھا۔ ٹیرف نہ ہوتا تو یہ کبھی ممکن نہ ہوتا۔‘‘
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ انہوں نے بھارت پر 25 فیصد اور پاکستان پر 19 فیصد درآمدی ٹیکس (ٹیرف) عائد کیا تھا۔ بعد ازاں، روسی تیل کی خریداری اور برکس اتحاد میں شمولیت پر بھارت کے ٹیرف میں اضافہ کر کے اسے 50 فیصد کر دیا، جسے ٹرمپ نے ’’امریکہ مخالف پالیسیوں‘‘ کو فروغ دینے والا اقدام قرار دیا۔
اگرچہ نہ بھارت اور نہ ہی پاکستان نے ٹرمپ کے ان دعووں کی تصدیق کی ہے، لیکن سابق امریکی صدر بدستور خود کو وہ ’’امن کا ثالث‘‘ قرار دیتے ہیں جس نے اپنے دورِ صدارت میں ’’نو ماہ میں آٹھ جنگیں ختم‘‘ کیں۔
