دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے، جس میں عالمی برادری فلسطینی عوام کے وقار، انصاف، بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کر رہی ہے۔
ہر سال 29 نومبر کو منایا جانے والا یہ دن فلسطینیوں کے دیرینہ تنازع کے منصفانہ حل اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کے تحفظ کے عالمی عزم کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ دن 1977ء میں اُس وقت قائم ہوا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر کو یومِ یکجہتی فلسطین کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ یہی وہ تاریخ ہے جب 1947ء میں فلسطین کی تقسیم سے متعلق قرارداد منظور کی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کی قرارداد 60/37 کے مطابق، 2005 میں جنرل اسمبلی نے کمیٹی برائے استعمالِ حقوقِ فلسطین کو ہدایت کی کہ وہ اس دن کی مناسبت سے سالانہ نمائش یا ثقافتی تقریب کا اہتمام جاری رکھے، جس میں فلسطین کے مستقل مبصر مشن کا تعاون بھی شامل ہو۔ رکن ممالک کو بھی اس دن کی وسیع تشہیر اور بھرپور حمایت کی ترغیب دی گئی۔
اس موقع پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی پاکستانی حمایت کو ایک بار پھر واضح کیا۔
یومِ یکجہتی فلسطین دنیا کو یہ یاد دلاتا ہے کہ فلسطینی عوام آج بھی انصاف اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
