پاکستانی اداکار عمران عباس نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ‘دھراندھر’ کے سازندگان پر سخت تنقید کی ہے اور انہیں سینما کے غلط استعمال کا الزام دیا ہے۔ عوامی طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے نہ صرف فلم کے مواد پر مایوسی کا اظہار کیا بلکہ پاکستانیوں پر بھی نکتہ چینی کی جنہوں نے اس فلم کو دیکھا۔ انہوں نے فلم سازوں اور ناظرین دونوں سے زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔
عمران عباس نے زور دیا کہ سینما کی دنیا میں مفید اور مثبت پیغام دینے والی فلمیں بنانا ضروری ہے جو ملک کی ثقافتی اور سماجی ترقی میں کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم سازوں کو معیاری اور سوچنے پر مجبور کرنے والا مواد بنانے پر توجہ دینی چاہیے، بجائے اس کے کہ ایسی فلمیں بنائیں جو انڈسٹری کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں۔
اداکار کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے، جہاں مداح اور ناقدین تخلیقی آزادی اور سماجی ذمہ داری کے درمیان توازن پر رائے دے رہے ہیں۔ کچھ صارفین عمران عباس کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ فنی اظہار پر پابندی نہیں ہونی چاہیے اور فلم کے کامیاب ہونے میں ناظرین کا انتخاب بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ تنازعہ پاکستان میں سینما کے کردار اور ملک کی تفریحی صنعت کو بہتر بنانے میں فلم سازوں اور ناظرین دونوں کی ذمہ داری پر دوبارہ بحث کا سبب بن گیا ہے۔
