راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی، تاہم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ خاندان کے افراد، وکلا اور پارٹی رہنماؤں کی جیل تک رسائی پر بدستور غیر ضروری پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود متعدد مواقع پر خاندان کے افراد اور پارٹی رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ملاقاتوں کے حوالے سے جاری پابندیاں قانونی اور آئینی حقوق کے منافی ہیں۔
علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی سابق آرمی چیف نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے ان اطلاعات کو "بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی افواہیں اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ عمران خان کو بیرونی دنیا سے رابطوں، کتابوں اور بعض دیگر سہولیات تک محدود رسائی حاصل ہے، جبکہ اہلِ خانہ کی ملاقاتوں میں بھی رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔ علیمہ خان کے مطابق عدالتی فیصلوں میں خاندان، وکلا اور نامزد پارٹی نمائندوں سے باقاعدہ ملاقاتوں کی اجازت دی گئی ہے، جس پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔
دوسری جانب حکومتی اور جیل حکام کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں حکام یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ جیل کے انتظامی اور سیکیورٹی معاملات قانون کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی مختلف مقدمات میں سزاؤں کے باعث اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جبکہ ان سے ملاقاتوں اور جیل میں سہولیات کے حوالے سے معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
