کراچی — انسدادِ منشیات کے مقدمے میں گرفتار ہائی پروفائل ملزمہ انمول عرف ‘پنکی’ کی جیل منتقلی کے بعد پہلی تصویر منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں وہ اپنے ماضی کے طرزِ زندگی کے برعکس انتہائی پریشان حال اور سادہ گھریلو لباس میں ملبوس نظر آ رہی ہیں۔
جیل ذرائع کے مطابق، سلاخوں کے پیچھے پہنچتے ہی پنکی کا مغرور رویہ یکسر تبدیل ہو گیا اور جیل کی بیرک میں داخل ہوتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ ملزمہ نے جیل کاٹنے سے بچنے کے لیے گردوں کے شدید عارضے کا ڈرامہ رچایا—جس کے بارے میں تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ یہ ایک باقاعدہ منصوبہ تھا تاکہ وہ جیل کے بجائے کسی پرتعیش ہسپتال میں مستقل منتقلی حاصل کر سکے۔
تاہم، قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ حکام پہلے ہی اس کی اس حکمتِ عملی سے باخبر تھے۔ پولیس ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر ملزمہ واقعی بیمار ہوتی ہے، تو بھی اس کا علاج سخت سیکیورٹی کے تحت جیل کے اندرونی ہسپتال میں ہی کیا جائے گا۔ حکام نے اصرار کیا کہ وہ ملزمہ کی ہیرا پھیری کی چالوں سے پوری طرح واقف ہیں اور اس کے لیے آسان رہائی یا بیرونی تحویل حاصل کرنا اب ناممکن ہے۔
ایک بڑی کامیابی کے طور پر، کراچی پولیس نے ملزمہ کے مالیاتی نیٹ ورک کو بھی تہس نہس کر دیا ہے، اور منشیات کے اس ہائی پروفائل کیس میں ملزمہ اور اس کے مبینہ سہولت کاروں سے منسلک متعدد بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا کر ان تک رسائی حاصل کر لی ہے۔
عدالت میں پیش کی گئی تفصیلی پولیس رپورٹ کے مطابق، کراچی بھر میں کروڑوں روپے کی منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ان اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کیا جاتا تھا۔ رپورٹ میں مالیاتی نیٹ ورک چلانے والے دو اہم سہولت کاروں، ذیشان اور سہیل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذیشان کے تین مختلف کمرشل بینکوں میں 5 اکاؤنٹس ہیں، جبکہ سہیل دو الگ الگ بینکوں میں 2 اکاؤنٹس چلا رہا تھا۔
تفتیش کاروں نے ان اکاؤنٹس میں آنے والی تمام رقوم کا مکمل ریکارڈ حاصل کر لیا ہے، جس میں واضح طور پر ان افراد اور ذرائع کی تفصیلات موجود ہیں جہاں سے منشیات کی رقم وصول کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ انمول عرف پنکی کو رواں ماہ کے آغاز میں پولیس اور سول انٹیلی جنس ایجنسی نے گارڈن کے علاقے میں واقع اس کے اپارٹمنٹ پر مشترکہ چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں منشیات اور بغیر لائسنس کے اسلحہ برآمد ہوا تھا، جس نے شہر کے ایک بڑے منشیات سپلائی نیٹ ورک کا خاتمہ کر دیا۔ اس وسیع تر نیٹ ورک کی مالیاتی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
