کویت کی وزارتِ سماجی امور نے تمام کوآپریٹو سوسائٹیز کو آخری وارننگ جاری کر دی ہے کہ وہ خوراک کے معیار اور حفاظت سے متعلق حکومتی قوانین پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں۔ حالیہ چھاپوں کے دوران سٹورز میں ناقص اشیاء، ایکسپائرڈ فوڈ اور اسٹوریج کے غیر معیاری انتظامات پکڑے جانے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ کوآپریٹو سٹورز میں پائی جانے والی لاپرواہی ناقابلِ قبول ہے۔ یہ سٹورز کویتی شہریوں کی روزمرہ ضروریات کا بڑا ذریعہ ہیں، اس لیے یہاں صفائی اور معیار پر سمجھوتہ براہِ راست عوامی صحت کے لیے خطرہ ہے۔
وزارت کے ایک ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب نرمی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اگر شیلف پر موجود اشیاء غیر محفوظ پائیں گئیں تو سٹور کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا۔
نئے احکامات کے تحت ہر کوآپریٹو سوسائٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماہِ رواں کے اختتام تک ایک کل وقتی ‘کوالٹی کنٹرول آفیسر’ تعینات کرے۔ اس افسر کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ ہر آنے والی کھیپ اور سٹوریج کے درجہ حرارت کی نگرانی کرے۔ حکومت نے ایک ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کروایا ہے جہاں شہری ناقص یا ایکسپائرڈ اشیاء کی تصاویر براہِ راست متعلقہ محکمے کو بھیج سکتے ہیں۔
حولی اور فروانیہ کے تین بڑے کوآپریٹو سٹورز کے مینیجرز کو پہلے ہی طلب کیا جا چکا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے منجمد گوشت اور پولٹری کی سٹوریج کے لیے طے شدہ درجہ حرارت کو نظر انداز کیا۔
کویت میں کوآپریٹو سوسائٹیز طویل عرصے سے ایک خاص خود مختاری کے تحت کام کر رہی تھیں، لیکن اب حکومت نے اپنی نگرانی کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ اتوار سے شروع ہونے والے معائنے کے نئے دور میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ وزارت کا پیغام صاف ہے: یا تو اپنے اندرونی آڈٹ کے نظام کو درست کریں، یا پھر قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔
