جنوبی کوریا کے سائنس دانوں نے صرف ایک سیکنڈ میں خون کو روکنے والا مؤثر طبی پاؤڈر تیار کر لیا ہے جو ایک اہم سائنسی پیش رفت ہے۔
جنوبی کوریا کے ایڈوانسڈ انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAIST) کے محققین نے ایک نئی طبی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے تحت ایک خاص پاؤڈر زخم پر چھڑکتے ہی صرف ایک سیکنڈ میں ایک مضبوط حفاظتی ہائیڈروجل تہہ بنا دیتا ہے، جو تیزی سے بہتے خون کو فوری طور پر روک دیتا ہے۔
یہ دریافت جنگ، حادثات اور ہنگامی طبی صورت حال میں خاص اہمیت رکھتی ہے، یہ نیا مادّہ AGCL Powder کہلاتا ہے، جو انجینئرنگ اور حیاتیاتی سائنس کے مشترکہ شعبوں میں تحقیق کے نتیجے میں تخلیق کیا گیا ہے۔
اس کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب یہ پاؤڈر خون سے ٹکراتا ہے تو خون میں موجود کیلشیم آئنز کے ساتھ ردِ عمل کرتے ہوئے تقریباً ایک سیکنڈ میں ہائیڈروجل میں بدل جاتا ہے، اس نئی شکل سے زخم مضبوطی سے بند ہو جاتا ہے اور خون کا بہاؤ رک جاتا ہے۔
یہ پاؤڈر قدرتی اور حیاتیاتی طور پر محفوظ اجزا جیسے alginate، gellan gum اور chitosan کا مرکب ہے۔ اس کی تھری ڈائی مینشنل ساخت اپنے وزن سے 7 گنا سے زائد خون جذب کر سکتی ہے، جس سے یہ زیادہ خون بہنے میں بھی مؤثر رہتا ہے۔ اس کے چپکنے کی طاقت 40 kPa سے زیادہ ہے، جس سے سخت دباؤ کے باوجود بھی زخم مضبوطی سے بند رہتا ہے۔
جانوروں پر کیے گئے تجربات نے ظاہر کیا کہ یہ پاؤڈر خون بہنے کا وقت کم کرتا ہے اور خون کی مقدار جیسی عام ہیومسٹک مصنوعات سے بہتر نتائج دیتا ہے۔ اس کی مدد سے خون کے خلیات کے ٹوٹنے کی شرح 3 فی صد سے کم، خلیاتی حیات 99 فی صد سے زائد ہو جاتی ے، اور بیکٹیریا کے خلاف یہ 99.9 فی صد مؤثر ہے۔
اس پاؤڈر کا ذخیرہ عام درجہ حرارت اور نمی والے ماحول میں 2 سال تک مؤثر رہتا ہے، جس سے یہ میدانِ جنگ، آفات یا محدود طبی سہولیات والے علاقوں میں فوری استعمال کے لیے بہترین قرار پاتا ہے۔ اگرچہ اس کی تحقیق کا آغاز دفاعی مقاصد کے لیے ہوا، محققین کا کہنا ہے کہ ہنگامی طب، جراحی اور انسانی امداد جیسے شعبوں میں بھی یہ ٹیکنالوجی انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اس منصوبے میں ایک کوریا فوجی افسر بھی شامل رہا۔
اس تحقیق کے نتائج بین الاقوامی جریدے Advanced Functional Materials میں شائع ہوئے ہیں۔ رکاوٹ بنانے والی یہ نئی پاؤڈر ٹیکنالوجی زیادہ تر روایتی طبی اشیا سے کہیں زیادہ تیز، مضبوط اور محفوظ ثابت ہوئی ہے، جس سے مستقبل میں ابتدائی طبی امداد اور پیچیدہ جراحی عمل میں بنیادی پیش رفت کا امکان روشن ہوا ہے۔
