ایک ایسی دنیا میں جہاں لوگ صرف چمکتی تصویروں اور فلٹر شدہ ویڈیوز کے دیوانے ہیں، ایک پاکستانی فنکار نے گرد و غبار سے خوبصورتی تراشنا سیکھ لیا ہے — اور وہ ہے شیروز، جس کا فن اب دنیا بھر میں وائرل ہو چکا ہے۔
اس کا کینوس؟ گاڑیوں کی گرد آلود کھڑکیاں۔
اس کا برش؟ صرف اس کی انگلیاں۔
اور اس کا فن؟ عارضی مگر دل کو چھو لینے والا۔
پیٹرول پمپ سے عالمی اسکرین تک
شیروز کی کہانی تب وائرل ہوئی جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی، جس میں وہ پیٹرول پمپ پر کھڑی ایک گاڑی کی گرد بھری کھڑکی پر جاپانی کردار گوکو (Goku) کی شاندار تصویر بناتا دکھائی دیا۔ چند گھنٹوں میں یہ ویڈیو فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر لاکھوں مرتبہ دیکھی گئی۔
لوگ حیران رہ گئے کہ صرف ایک انگلی اور مٹی کی تہہ سے اتنی باریک تفصیل اور حقیقت سے بھرپور خاکہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ لوگ میری تصویروں پر دھیان دیں گے،” شیروز نے ایک انٹرویو میں کہا۔ “میں تو بس وہی بنا رہا تھا جو مجھے پسند ہے — کردار، چہرے، کہانیاں — بس کینوس ذرا الگ ہے۔”
گرد سے جنم لینے والا فن
شیروز کا فن ایک طرح سے فلسفیانہ ہے — کیونکہ یہ عارضی ہے۔ ایک بارش، ایک کپڑا یا کار واش — اور تصویر ختم۔ مگر یہی بات اسے خاص بناتی ہے۔
وہ وہی چیز خوبصورت بنا دیتا ہے جسے ہم عام طور پر گندگی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کے فن میں ایک عارضی لمحے کی خوبصورتی اور تخیل زندہ ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ تصویریں چند گھنٹوں بعد مٹ جاتی ہیں، مگر ان کے ویڈیوز اور تصاویر انٹرنیٹ پر ہزاروں بار شیئر کی جا چکی ہیں۔ ہیش ٹیگز #SherozFingerArt، #FingerArt اور #ArtFromDust بارہا پاکستانی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرتے رہے ہیں۔
غیر متوقع جگہوں سے ابھرنے والی تخلیق
شیروز کی کہانی کا سب سے متاثرکن پہلو اس کی سادگی ہے۔
نہ مہنگے رنگ، نہ آرٹ اسٹوڈیو، نہ اسپانسر — بس خالص تخلیقی ذہن اور لگن۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن کہیں بھی جنم لے سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں نوجوان فنکاروں کو مواقع کم ملتے ہیں، شیروز کی کامیابی یاد دلاتی ہے کہ قابلیت کبھی چھپ نہیں سکتی — چاہے گرد کی تہہ کے نیچے ہی کیوں نہ ہو۔
کراچی کے ایک آرٹ بلاگر نے لکھا، “وہ کسی آرٹ گیلری میں نہیں، بلکہ سڑک پر کھڑی گاڑیوں پر مصوری کرتا ہے — اور یہی اسے منفرد بناتا ہے۔ اس کا فن ایک جگہ نہیں رکتا، یہ سفر کرتا ہے۔”
سوشل میڈیا کا نیا اسٹار
شیروز کے ویڈیوز کو لوون کراچی اور ڈیلی پبلک جیسے معروف پیجز نے شیئر کیا۔ مداح اسے “پاکستان کا بینکسی آف ڈسٹ” (Banksy of Dust) کہنے لگے۔ کچھ لوگوں نے تو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تصاویر کو پرنٹ یا NFT کے طور پر بیچنا شروع کرے۔
تاہم، شیروز اب بھی وہی عام سا نوجوان ہے جو فارغ وقت میں پیٹرول پمپ پر کھڑی گاڑیوں پر انگلی سے مصوری کرتا ہے۔
آگے کیا؟
شیروز کی بڑھتی مقبولیت دیکھ کر لگتا ہے کہ جلد ہی وہ گاڑیوں کے برانڈز، آرٹ فیسٹیولز یا کلچرل ایونٹس کے ساتھ تعاون کرے گا۔
اس کی کہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ فن کو زندہ رہنے کے لیے گیلریوں کی نہیں بلکہ جذبے اور کہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیونکہ آخرکار، شیروز کا فن صرف گرد کے بارے میں نہیں —
یہ اس نظر کے بارے میں ہے جو وہاں خوبصورتی دیکھتی ہے جہاں دوسروں کو صرف مٹی نظر آتی ہے۔
