کراچی: ڈرامہ ’زنجیریں‘ میں گل مہر کا کردار ادا کرکے شوبز میں قدم رکھنے والی نئی اداکارہ مہرمان آئلین خان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے کردار سے اس قدر جذباتی طور پر جڑ گئی تھیں کہ بعض اوقات اپنے اور گل مہر کے درمیان فرق کرنا بھی مشکل ہوجاتا تھا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں مہرمان نے اپنی پہلی اداکاری کے تجربے اور گل مہر کے کردار سے اپنی گہری وابستگی کے بارے میں گفتگو کی۔
اداکارہ نے بتایا کہ وہ اور گل مہر دونوں جذباتی طور پر حساس ہیں اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کے جذبات کو جلد محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی مماثلت کردار کو ان کے لیے ذاتی اور جذباتی طور پر خاص بناتی تھی، تاہم بعض اوقات یہ عمل مشکل بھی ہوجاتا تھا۔
مہرمان نے بتایا کہ شوٹنگ ختم ہونے کے بعد کردار سے باہر نکلنے میں انہیں وقت لگتا تھا۔ ان کے مطابق ہدایت کار کی جانب سے منظر ختم کرنے کا اعلان کیے جانے کے باوجود وہ کچھ دیر تک گل مہر کے جذبات میں رہتی تھیں اور کردار کے کپڑے پہنے ہونے کی وجہ سے اس کیفیت سے نکلنا مزید مشکل محسوس ہوتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کردار کو سمجھنا آسان تھا، لیکن شوٹنگ ختم ہونے کے بعد اسے اپنے اندر سے ختم کرکے خود کو دوبارہ اپنی اصل شخصیت میں لانا مشکل مرحلہ تھا۔
ساتھی اداکار عثمان جاوید کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جو ڈرامے میں گل مہر کے مدِمقابل تورسم کا کردار ادا کررہے ہیں، مہرمان نے کہا کہ دونوں کرداروں کے درمیان واضح تضاد ڈرامے کی کہانی کے لیے بہت اہم تھا۔
ان کے مطابق گل مہر نرم مزاج اور دھیمے لہجے میں بات کرتی ہے جبکہ تورسم بلند آواز اور سخت مزاج کردار ہے۔ اسی لیے کشیدہ مناظر میں انہیں اپنے لہجے کو نرم اور رویے کو پرسکون رکھنا پڑتا تھا۔
مہرمان نے عثمان جاوید کی اداکاری کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مضبوط اور جذباتی مکالمے ادا کرتے تھے، جس سے ان کے اندر بھی وہی جذبات پیدا ہوجاتے تھے اور ان کی اداکاری میں مدد ملتی تھی۔
اداکارہ نے معروف سینئر فنکاروں، خصوصاً عدنان صدیقی اور سجل علی کے ساتھ کام کرنے پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہیں اتنے تجربہ کار فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
مہرمان کے مطابق ڈرامے میں ان کے سب سے زیادہ مناظر عثمان جاوید اور اس کے بعد عدنان صدیقی کے ساتھ تھے۔ انہوں نے دانیال ظفر اور انایا شاہد کے ساتھ کام کرنے کا بھی ذکر کیا۔
اداکارہ نے بتایا کہ وہ ہمیشہ سے عدنان صدیقی اور سجل علی کے ساتھ کام کرنا چاہتی تھیں۔ اگرچہ انہیں سجل علی کے ساتھ کوئی مشترکہ منظر نہیں ملا، تاہم مہرمان نے کہا کہ انہیں ان کی اداکاری اور موجودگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ضرور ملا۔
گل مہر کے کردار کے اختتام کے بارے میں مہرمان نے اشارہ دیا کہ ڈرامے کا اختتام ناظرین کے لیے ملے جلے جذبات کا باعث بنے گا۔ ان کے مطابق کچھ لمحات خوشی دیں گے جبکہ کچھ مناظر اداس بھی کرسکتے ہیں۔
ڈرامہ ’زنجیریں‘ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اسے یوٹیوب پر ایک ارب سے زیادہ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے، جو مہرمان کے ڈیبیو منصوبے کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
مہرمان نے اس کامیابی کو ذاتی اعزاز کے ساتھ ساتھ پوری ٹیم کی مشترکہ کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ارب مرتبہ دیکھے جانے کا سنگِ میل سب کی محنت کا نتیجہ ہے۔
مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں مہرمان نے کہا کہ وہ مختلف نوعیت کے کردار ادا کرنا چاہتی ہیں اور مزید اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کی خواہشمند ہیں۔ ان کے مطابق کسی ایک مخصوص اداکار کا نام ان کے ذہن میں نہیں، بلکہ وہ اسکرپٹ، موقع اور کردار کی نوعیت کو ترجیح دیں گی۔
