ایک نوجوان پاکستانی کاروباری شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ ریئلٹی شو شارک ٹینک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے کیا گیا معاہدہ کبھی مکمل نہیں ہوا، جس کے باعث پروگرام کی اسکرین پر ہونے والے معاہدوں اور سرمایہ کاروں کی سنجیدگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
عبدالرحمٰن تسلیم، جو اسٹفیز ڈاٹ پی کے (Stuffeez.pk) کے بانی ہیں، نے شو کے پہلے سیزن کی قسط نمبر 7 میں شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے اپنے کاروبار میں 22 فیصد حصص کے عوض 50 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا۔ تسلیم کے مطابق، اگرچہ معاہدے کو پروگرام کے دوران سراہا گیا اور نشر ہونے کے بعد عوامی سطح پر پذیرائی ملی، لیکن وعدہ کیا گیا سرمایہ انہیں کبھی فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے مکمل جانچ پڑتال (due diligence) کا عمل مکمل کیا، تمام ضروری دستاویزات جمع کرائیں اور کئی ہفتوں تک پروڈکشن ٹیم اور سرمایہ کاروں سے رابطے میں رہے، تاہم بعد میں تمام رابطے ختم کر دیے گئے۔ ایک سرمایہ کار نے مبینہ طور پر انہیں بتایا کہ دیگر شارکس سنجیدہ نہیں تھے اور خود اس کے پاس بھی سرمایہ موجود نہیں، اور پھر وہ بھی خاموش ہو گیا۔
تسلیم کا یہ انکشاف پہلا نہیں۔ ذرائع کے مطابق، شارک ٹینک پاکستان کے پہلے سیزن میں دکھائے گئے 36 معاہدوں میں سے صرف 4 ہی حقیقت میں مکمل ہو سکے، جبکہ باقی تمام صرف اسکرین تک محدود رہے۔ کئی دیگر کاروباری افراد نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں کیمرے کے سامنے سرمایہ کاری کی پیشکش ہوئی، لیکن بعد ازاں یا تو معاہدہ منسوخ ہو گیا یا ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
سرمایہ کاری کے ٹوٹنے کے علاوہ، متعدد اسٹارٹ اپس کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے بھی نوٹسز موصول ہوئے ہیں۔ شو میں شرکت کے بعد کچھ بانیوں سے مالیاتی تفصیلات اور ٹیکس کے معاملات پر پوچھ گچھ کی گئی۔ کئی افراد کے لیے یہ عوامی شناخت تو لائی، لیکن ساتھ ہی غیر متوقع قانونی دباؤ بھی پیدا ہو گیا۔
پروگرام پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ وہ صرف ایسے اسٹارٹ اپس کو ترجیح دیتا ہے جن کے بانی اعلیٰ تعلیمی اداروں جیسے لمز سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جبکہ عوامی سطح سے آنے والے کاروباری افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اس امتیازی رویے پر مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اگرچہ پروگرام کو تنقید کا سامنا ہے، لیکن اس نے کئی باصلاحیت کاروباری منصوبوں کو روشناس کرایا اور عوام کو ایکویٹی، ویلیوایشن اور پچنگ جیسے کاروباری تصورات سے متعارف کروایا۔ پروگرام اس وقت عالمی خبروں میں آیا جب لمز کے فارغ التحصیل سید اسماعیل نے سراف نامی اسٹارٹ اپ کے لیے 5.4 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو کہ شارک ٹینک کی عالمی تاریخ کا ایک بڑا معاہدہ قرار دیا گیا۔ تاہم، اس معاہدے کی قدر اور صرف 3 فیصد ایکویٹی پر دی گئی پیشکش پر تنقید بھی کی گئی، اور شارک ٹینک انڈیا کے نمایاں سرمایہ کاروں نے اسے سوشل میڈیا پر طنز کا نشانہ بنایا۔
اگرچہ شارک ٹینک پاکستان نے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری پر بحث کو فروغ دیا، مگر ان معاہدوں کی حقیقت پر اٹھتے سوالات نے شو کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ سیزن میں شو کو مزید شفاف طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا، سرمایہ کاری کو قانونی طور پر یقینی بنانا ہوگا، اور ایسے کاروباری افراد کو بھی موقع دینا ہوگا جو پس منظر میں رہنے کے باوجود حقیقی صلاحیت رکھتے ہیں
