پاکستانی اداکارہ مہوش حیات اور بھارتی ریپر یو یو ہنی سنگھ کو برطانیہ میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے، متنازع میوزک ویڈیو ’جٹ محکمہ‘ کے باعث، برطانوی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔
برطانوی رکنِ پارلیمنٹ مینویلا پرٹیگیلا نے ہوم آفس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کی تحقیقات کرے، جس میں مبینہ طور پر تشدد کی تشہیر کی گئی ہے۔
یہ ویڈیو، جس کی شوٹنگ ایسٹنر کاسل (ہیرفرڈشائر) اور برمنگھم سٹی سینٹر میں ہوئی، نومبر میں ریلیز ہوئی تھی اور اب تک یوٹیوب پر 4 کروڑ کے قریب ویوز حاصل کر چکی ہے۔
ویڈیو کے اختتام پر چار کم عمر لڑکوں کو مہوش حیات کے کردار کے ساتھ نقلی خودکار ہتھیاروں اور شاٹ گنز سے فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
برطانوی ذرائع کے مطابق، ویڈیو کی پروڈکشن ایک یوکے بیسڈ کمپنی کے ذریعے ممکن ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوم آفس دونوں فنکاروں پر "ایکسکلوژن آرڈر” لگانے پر غور کر رہا ہے تاکہ وہ دوبارہ ملک میں داخل نہ ہو سکیں۔
مہوش حیات، جو مارول سیریز Ms. Marvel اور پاکستانی فلموں لوڈ ویڈنگ اور ایکٹر ان لاء کے لیے جانی جاتی ہیں، نے کسی بھی قانونی کارروائی کی تردید کی ہے۔
"یہ دعوے محض قیاس آرائیاں اور گمراہ کن ہیں،” انہوں نے کہا اور میڈیا سے مطالبہ کیا کہ حقائق کی تصدیق کیے بغیر خبریں نہ پھیلائیں۔
بھارتی گلوکار یو یو ہنی سنگھ نے تاحال اس معاملے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
برطانوی ہوم آفس اور ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے بھی کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق بی بی سی ایشین نیٹ ورک نے آئندہ کے لیے اس گانے کو اپنی پلے لسٹ سے ہٹا دیا ہے۔
