نومبر 2، 2025
ویب ڈیسک
نائیجیریا نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں مسیحی آبادی ’’وجودی خطرے‘‘ سے دوچار ہے۔
صدر بولا احمد تینوبو نے ایک تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ نائیجیریا کا آئین تمام مذاہب کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور ملک میں مذہبی آزادی اور رواداری کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” پر لکھا، ’’نائیجیریا کو مذہبی عدم برداشت کے طور پر پیش کرنا حقائق کے منافی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ 2023 سے مسیحی اور مسلم رہنماؤں کے درمیان باہمی تعاون اور مکالمہ مسلسل جاری ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’’انتہا پسند اسلام پسند‘‘ نائیجیریا میں ہزاروں مسیحیوں کو قتل کر رہے ہیں اور ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کی تنبیہ بھی کی تھی۔
صدر تینوبو نے ان بیانات کو ’’گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نائیجیریا مذہبی بنیادوں پر کسی بھی قسم کے ظلم یا امتیاز کی مخالفت کرتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔
اگرچہ ملک کے کچھ حصوں میں انتہا پسندی کے واقعات پیش آئے ہیں، مگر رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں مسیحی اور مسلم دونوں برادریاں متاثر ہوئی ہیں۔
