پاکستان کی قیمتی پتھروں کی صنعت کے لیے یہ ایک یادگار لمحہ ثابت ہوا۔ شمالی پاکستان کی پہاڑیوں سے دریافت ہونے والا 3,051 قیراط وزنی کنزائٹ چین کے شہر شنگھائی میں منعقدہ آٹھویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (CIIE) میں پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا گیا — اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کی نظریں اسی پر جم گئیں۔
یہ پتھر عام نہیں۔ اسے گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کا سب سے بڑا قدرتی اور قیمتی کنزائٹ کرسٹل قرار دیا ہے۔ اس نایاب پتھر کو پاکستانی جیولری برانڈ ونزا (WINZA) نے پیش کیا، جو کان سے پتھر نکالنے سے لے کر تراش خراش اور زیورات کی تیاری تک ہر مرحلہ خود انجام دیتا ہے۔
ونزا کے چیئرمین نے ایکسپو کے دوران بتایا، “ہم دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان اب صرف خام مال برآمد کرنے والا ملک نہیں رہا۔ ہم اب عالمی معیار کے قیمتی پتھر تراش اور ڈیزائن کر کے برآمد کر رہے ہیں۔”
اعداد و شمار کے مطابق، چینی مارکیٹ میں ونزا کی فروخت گزشتہ سات برسوں میں 20 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور سالانہ اوسط ترقی کی شرح تقریباً 30 فیصد رہی ہے۔
اس سال ایکسپو میں پاکستان کے نیشنل پویلین میں 20 سے زائد پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی، جنہوں نے زیورات، ماربل، ہینڈی کرافٹس اور دیگر مصنوعات پیش کیں۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کی برآمدات کو صرف ٹیکسٹائل سے آگے بڑھا کر ڈیزائن پر مبنی مصنوعات کی طرف لے جانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یہ کنزائٹ محض ایک خوبصورت پتھر نہیں بلکہ ایک علامت ہے — اس بات کی کہ پاکستان کے کاریگر، ڈیزائنر اور برانڈز اب عالمی لگژری مارکیٹ میں جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک چینی ناظر نے ایکسپو میں تبصرہ کیا، “یہ صرف پتھر کی چمک نہیں، اس کے پیچھے کی کہانی، اس کی محنت اور اس کی اصل بھی چمک رہی ہے۔”
فی الحال، یہ کنزائٹ شنگھائی ایکسپو کی سب سے زیادہ زیرِ بحث نمائش بن چکا ہے — اور اس نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی قدرتی خوبصورتی اور دستکاری دنیا بھر میں اپنی پہچان بنانے کی طاقت رکھتی ہے۔
