موجودہ دور میں دیکھا گیا ہے کہ بہت سے والدین اپنے بچوں کو مصروف رکھنے اور اپنے آرام میں خلل سے بچنے کیلیے چھوٹے بچوں کو موبائل فون تھما دیتے ہیں یہ عمل اپنی اولاد سے دشمنی کے مترادف ہے۔
چھوٹے بچوں خصوصاً 5 سال سے کم عم بچوں کو کھیلنے کیلیے موبائل فون دینا کا استعمال ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی نشوونما کے لیے انتہائی مضر ہے۔
اس حوالے سے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر وسیم احمد جمالوی نے ماؤں کو چند اہم باتیں بتائیں اورمفید مشورے دیے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے بچوں کے لیے موبائل فون کا استعمال ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی نشوونما کے لیے انتہائی مضر ہے، جس سے نظر کی کمزوری، نیند کی کمی، چڑچڑاپن اور سیکھنے کی صلاحیت میں تاخیر جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بچہ ہمیشہ اپنے والدین اور ارد گرد کے لوگوں سے سیکھتا ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مائیں بچوں کو موبائل فون دے کر اپنی جان چھڑا لیتی ہیں۔
اس پریشانی کا حل کیا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہوسکے تو والدین کو چاہیے کہ خود بھی موبائل کا استعمال کم کریں خاص طور پر جب تک ان کے بچے سمجھداری کی عمر کو نہیں پہنچتے۔ بچوں کو خاص طو ر پر دو سال سے پہلے موبائل فون کسی صورت نہ دیں اور دو سال بعد یہ یاد رکھیں کہ کھانا کھاتے ہوئے اور سونے سے پہلے بالکل نہ دیں کیونکہ اس کی بلیو لائٹس آنکھوں اور دماغ کیلیے بہت نقصان دہ ہیں۔
