اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے سینئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر مذمتی قرارداد منظور کر لی۔
اجلاس کے آغاز پر پاکستان کی پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے) نے بطور احتجاج واک آؤٹ کیا۔ صحافیوں نے الزام لگایا کہ عمران خان نے سوال پوچھنے پر اعجاز احمد کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "رپورٹرز اور صحافیوں کا حق ہے کہ وہ سوال کریں اور ہمیں آئینہ دکھائیں، ہمیں یہ برداشت کرنا چاہیے۔” انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بدسلوکی کے بعد سوشل میڈیا پر اعجاز احمد کے خلاف مہم چلائی گئی۔
پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے اعجاز احمد کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ "سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن صحافیوں کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے۔” ایم کیو ایم کے سید امین الحق نے الزام لگایا کہ عمران خان نے دھمکیاں دیں اور اس کے بعد ڈیجیٹل میڈیا پر اعجاز احمد کو ہراساں کیا گیا۔
ایوان میں پیش کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں کو فوری تحفظ دیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہو۔ قرارداد میں اینکر پرسن امتیاز میر کے قتل کی بھی مذمت کی گئی اور شفاف تحقیقات پر زور دیا گیا۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایوان کا ماحول خراب ہوگا۔ تاہم اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔
