اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے منگل کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایوانِ زیریں کے اجلاسوں میں ارکان کی کم حاضری کا نوٹس لے لیا ہے، جس کے بعد بعض وفاقی وزرا نے بھی ارکان کی عدم شرکت کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھایا تھا۔
قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ وزیراعظم نے ارکان کی غیر حاضری کا نوٹس لیا ہے اور اب ارکان اور وزیراعظم دونوں حاضری بہتر بنانے کے معاملے کی نگرانی کررہے ہیں۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب منگل کے قومی اسمبلی اجلاس میں ارکان کی تعداد کم رہی، متعدد نشستیں خالی نظر آئیں اور اجلاس کے دوران مطلوبہ تعداد پوری ہونے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھے۔
اسپیکر نے کہا کہ ایوان میں مطلوبہ تعداد برقرار رکھنا صرف اسپیکر کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ اجلاس، جو جمعرات یا جمعہ کو متوقع ہے، میں ارکان کی حاضری بہتر ہوگی۔
ایاز صادق نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے انہیں پیغام ملا ہے کہ مسئلے کا احساس موجود ہے اور مستقبل میں حاضری بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارکان پر زور دیا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران اپنی نشستوں پر موجود رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دو سے چار گھنٹے کے لیے مختص اجلاس میں ارکان موجود نہ ہوں تو بحث، سوالات، گفتگو اور قانون سازی سمیت اہم پارلیمانی امور متاثر ہوتے ہیں۔
اسپیکر کے مطابق کم حاضری سے صرف حکومت متاثر نہیں ہوتی بلکہ اپوزیشن بھی اپنا پارلیمانی ایجنڈا مؤثر انداز میں آگے نہیں بڑھا سکتی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے قانون سازی کے معاملے پر حکومت کو سخت وقت دینے اور زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے اعلان کے بارے میں سوال پر ایاز صادق نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی قانون سازی میں فعال کردار ادا کرنے کی بات کو اچھی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت کا احتساب بہتر ہوسکتا ہے اور اصلاحات کے عمل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے معاملے پر اسپیکر نے کہا کہ انہوں نے کسی استعفے کی منظوری نہیں دی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اصلاحاتی عمل جاری رکھے گی اور قائمہ کمیٹیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر بھی عمل کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں مطالبے پر اجلاس کررہی ہیں اور اگر اپوزیشن ارکان ان اجلاسوں میں شرکت کریں تو ان کی کارکردگی مزید بہتر ہوسکتی ہے۔
حکومت یا وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک لانے کے امکان کے بارے میں سوال پر ایاز صادق نے کہا کہ یہ اپوزیشن کا جمہوری اور سیاسی حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن یہ حق استعمال کرنا چاہے گی تو اسے سہولت فراہم کی جائے گی اور وقت آنے پر صورتحال دیکھی جائے گی۔
اسپیکر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کم کرنے اور مذاکرات شروع کرنے کے لیے کئی مرتبہ کوششیں کی جاچکی ہیں۔ ان کے مطابق وہ خود، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون اور رانا ثنا اللہ مختلف مواقع پر مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ وہ بار بار پیشکش دہراتے ہوئے تھک گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ حکومت سے کہیں گے کہ اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ایک اور کوشش کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن واقعی مذاکرات چاہتی ہے تو وہ اس مقصد کے لیے آگے آئے گی۔
