کراچی پولیس نے اداکارہ و ماڈل حمیرہ اصغر کے پراسرار انتقال سے متعلق نئی تفصیلات سامنے لے آئیں۔ ان کا جسم 8 جولائی 2025 کو کراچی کے ڈی ایچ اے فیز 6 میں ان کے فلیٹ سے انتہائی سڑاندار حالت میں ملا تھا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ہمائرا کی موت کو اس لیے کئی مہینے تک محسوس نہیں کیا جا سکا کیونکہ ان کے فلیٹ کے ساتھ رہنے والے پڑوسی اکتوبر 2024 سے فروری 2025 تک ملک سے باہر تھے، جس کی وجہ سے بدبو کو کوئی محسوس نہیں کر سکا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جس کمرے میں حمیرہ کا جسم ملا اس کے ساتھ ایک گیلری منسلک تھی، اور اگلے کمرے کے باتھروم کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے بدبو وقت کے ساتھ ختم ہوتی رہی۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ فلیٹ مینجمنٹ، چوکیدار اور پڑوسیوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہمائرا کی موت 7 اکتوبر 2024 کو ہوئی۔ چوکیدار نے تین دن بعد ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کوئی جواب نہ ملا۔ ایک دوست نے بھی رابطہ کیا لیکن وہ ناکام رہا۔ بالآخر 8 جولائی 2025 کو عدالت کے عملے نے ان کا جسم دریافت کیا، جب کرایہ نہ دینے کی شکایت پر ان کے فلیٹ کا دورہ کیا گیا۔
ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ جسم ایک یا دو ماہ پرانا ہے، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہوا کہ وہ 8 سے 10 ماہ پرانی موت کا شکار تھیں اور جسم انتہائی خراب حالت میں تھا۔
