اسلام آباد – وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ موجودہ حکومتی اتحاد قائم رہے گا، اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد اگرچہ اسمبلی میں جماعتوں کے نمبرز میں فرق آیا ہے، لیکن حکومت کا نظام پی پی پی اور ن لیگ کے بغیر نہیں چل سکتا۔
"یہ اتحاد ناگزیر ہے، اور افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔ دونوں جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ اتحاد ہی نظام کی ضمانت ہے۔”
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے صدر بننے کی قیاس آرائیوں پر انہوں نے کہا:
"یہ سراسر غلط ہے۔ وہ وردی میں ہی ریٹائر ہوں گے، اور کسی سول عہدے کے امیدوار نہیں ہیں۔”
پنجاب میں پی پی پی کے خدشات
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے تسلیم کیا کہ پنجاب میں پارٹی کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے، کیونکہ وہاں ان کے مسائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
"ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت ہمارے مسائل پر دھیان نہیں دیتی، اسی لیے ہمارے رہنما شکایات لے کر پارٹی قیادت کے پاس جاتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
تاہم مانڈوی والا نے دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کی مثال بھی دی، جیسا کہ سندھ حکومت نے حال ہی میں پنجاب میں ایک اسپتال کھولا، جس پر ن لیگ کی حکومت نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
رانا ثناء اللہ نے بھی سیاسی برداشت اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
"چارٹر آف ڈیموکریسی میں واضح لکھا ہے کہ ایک جماعت کو دوسری کی حکومت گرانے میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔”
انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے حالیہ ملاقات کے حوالے سے کہا کہ بات چیت آئندہ سینیٹ انتخابات کے لیے حکمت عملی پر ہوئی۔
"ہم چاہتے ہیں کہ مولانا صاحب، پیپلز پارٹی اور ن لیگ مل کر زیادہ سینیٹ نشستیں حاصل کریں۔”
