لینڈھی سوشل سیکیورٹی ہسپتال میں ڈائلیسز کروانے والے مریضوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت سندھ نے ہنگامی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ متاثرہ مریضوں کے لواحقین نے ہسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ ڈائلیسز کے دوران طبی آلات کی ناقص جراثیم کشی اور انہیں دوبارہ استعمال کرنے سے وائرس پھیلا۔
بدھ کے روز محکمہ صحت کے حکام نے انکوائری کی تصدیق کی۔ گردوں کے عارضے میں مبتلا مریضوں کے لیے یہ انکشاف کسی قیامت سے کم نہیں ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ جس ہسپتال کو غریب مزدوروں کے لیے سہارا ہونا چاہیے تھا، وہ اب ان کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔
ہسپتال کے باہر موجود ایک متاثرہ مریض کے لواحقین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہم یہاں زندگی بچانے آتے ہیں، عمر بھر کی بیماری لے جانے نہیں، اور ہسپتال کی خاموشی اس انفیکشن سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔”
صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ہسپتال کے ڈائلیسز یونٹ کا آڈٹ کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا ڈسپوزایبل کٹس کی خریداری کے ریکارڈ میں کوئی خرد برد ہوئی یا نرسنگ عملے نے طے شدہ طبی اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ہسپتال انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی اور معطلی کا امکان ہے۔
سندھ کا صحت کا نظام ماضی میں بھی انفیکشن کنٹرول کے حوالے سے سوالات کی زد میں رہا ہے۔ 2019 میں رتوڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا واقعہ یاد ہے، جس کی بنیادی وجہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال تھا۔ اگرچہ لینڈھی ہسپتال میں کیسز کی تعداد فی الحال محدود بتائی جا رہی ہے، لیکن سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا۔ ایک ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "اندرونی سطح پر معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے،” تاہم متاثرہ مریضوں کی تعداد کے بارے میں وہ خاموش رہے۔
محکمہ صحت کو 48 گھنٹوں کے اندر ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس وقت ڈائلیسز مشین سے منسلک مریضوں کے لیے یہ تحقیقات محض ایک رسمی کارروائی ہے، کیونکہ ان کے ذہنوں میں ایک ہی سوال ہے: کیا اگلا سیشن محفوظ ہوگا؟
