صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے ضلعی اسپتال مختلف مسائل اور نامکمل طبی سہولتوں کا شکار ہیں، 70 سال گزرنے کے باوجود سندھ میں پرائمری اور سیکنڈری اسپتالوں کا بنیادی ڈھانچہ بھی مکمل نہیں کیا جاسکا اور کراچی کی ضلعی اسپتالوں میں مختلف حادثات میں رپورٹ ہونے والے زخمیوں کے علاج کے لیے ٹراما سینٹر بھی نہیں بنائے جاسکے۔
سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اور سعود آباد اسپتال میں ٹراما سینٹر بنائے جانے تھے لیکن آج تک ان دونوں اسپتالوں میں ٹراما سینٹر نہیں بنایا جاسکا۔ کراچی کے ضلعی اسپتالوں سیکڑوں اسامیاں آج بھی خالی پڑی ہیں۔ نصف صدی سے زائد گزرنے کے باوجود بھی ضلعی اسپتالوں میں بہتری نہیں لائی جاسکی۔
2000 میں سندھ کے سابقہ نگراں وزیر صحت پروفیسر ایس ایم رب نے کراچی کے 4 ضلعی اسپتالوں کو ڈاؤ میڈیکل کالج سے الحاق کرکے ان ضلعی اسپتالوں کو ٹیچنگ اسپتالوں کا درجہ دینے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا تھا لیکن بدقسمتی سے اس نوٹیفکیشن پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا جاسکا، جس میں کہا گیا تھا کہ ڈاؤ میڈیکل کالج کی فیکلٹی ضلعی اسپتالوں میں جاکر مریضوں کو طبی سروس فراہم کرے گی۔
ان ضلعی اسپتالوں کو ٹیچنگ اسپتالوں کا درجہ دینے سے سینئر پروفیسر حضرات کی مریضوں کو طبی سروسز میسر آتی لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے آج بھی ان ضلعی اسپتالوں میں معمولی روٹین ٹیسٹ اور ابتدائی علاج کیا جارہا ہے جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے انہیں ادویات کا سالانہ بجٹ بھی فراہم کیا جاتا ہے لیکن ان ضلعی اسپتالوں میں ایم آر آئی۔ سی ٹی اسکین، پیڈ سی ٹی، کلر ڈوپلر سمیت مختلف پروسیجر ٹیسٹوں کی سہولتیں ناپید ہیں، یہی وجہ ہے کہ مریض اپنے مرض کی تشخیص اور علاج کے لیے سول اور جناح کا رخ کرتے ہیں جہاں پہلے ہی سے صوبے بھر کے مریضوں کا دباؤ موجود ہوتا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سول اسپتال کی او پی ڈی میں یومیہ 5 سے 6 ہزار مریض جبکہ جناح اسپتال میں بھی مریضوں کی یہی تعداد یومیہ اپنے چیک اپ اور مرض کی تشخیص کے لیے رپورٹ ہوتی ہے۔
اس وقت کراچی میں ضلعی اسپتالوں میں سندھ گورنمنٹ نیوکراچی اسپتال، سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال، سندھ گورنمنٹ کورنگی اسپتال، سندھ گورنمنٹ سعودآباد اسپتال، سندھ گورنمنٹ ابراھیم حیدری اسپتال شامل ہیں جبکہ کراچی کے دیگر ضلعوں میں قائم صحت کے مراکز و میٹرنٹی ہومز اور کراچی کے دیہی علاقوں میں قائم صحت کے مراکز میں یہ تمام سہولتیں میسر نہیں ہیں۔
ان ضلعی اسپتالوں اور صحت کے بنیادی مراکزوں میں یہ کمی نہ صرف مریضوں کی بروقت تشخیص میں رکاوٹ بن رہی ہے بلکہ بڑے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے شدید دباؤ کا سبب بنتی ہے۔ ان ضلعی اسپتالوں میں ریڈیولوجی کی مناسب سہولیات کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ ٹیکنیشن کی سہولت بھی ناپید ہے۔
سندھ گورنمنٹ نیوکراچی اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر علی مرتضی نے بتایا کہ اسپتال میں مریضوں کے لیے 200 بستر مختص ہیں لیکن اسپتال کی سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کی سہولت موجود نہیں ہے۔ محکمہ صحت اسپتال ادویات کی مد میں 12 کروڑ روپے سے زائد اسپتال کو فراہم کرتا ہے، اسپتال میں آنے والے مریضوں کی ہر مکمن سہولت فراہم کی جاتی ہے جبکہ پیچیدہ امراض کے مریضوں اور سول اور جناح اسپتال ریفر کیا جاتا ہے۔
سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عتیق قریشی نے بتایا کہ اسپتال کی سی ٹی اسکین مشین گزشتہ 5 سال سے خراب ہے۔ اس حوالے سے محکمہ صحت کو متعد بار آگاہ کیا گیا لیکن ابھی تک سی ٹی اسکین مشین خراب ہے۔
واضع رہے کہ سندھ گورنمنٹ کورنگی اسپتال میں سی ٹی اسکین مشین مہینے میں 20 دن خراب رہتی ہے جس کی وجہ سے کورنگی کی مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک مریض جاوید نے بتایا کہ سی ٹی اسکین کرنے کی ضرورت پڑی جب کورنگی اسپتال گیا تو معلوم چلا کہ مشین خراب ہے، ایک ہفتے بعد دوبارہ اسپتال پہنچا تب بھی مشین خراب تھی۔ بعدازاں سی ٹی اسکین کرانے جناح اسپتال گیا تو ایک ماہ بعد کی تاریخ ملی۔
جاوید نے محکمہ صحت سے مطالبہ کیا کہ ضلعی اسپتالوں سی ٹی اسکین مشین کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
