پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے بھارت کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے بعض پاکستانی شہریوں کو بھارت کے حوالے کرنے کی بات کی تھی۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے ہفتے کے روز ایک سخت بیان میں بلاول بھٹو کو "غیر سنجیدہ سیاسی بچہ” قرار دیا اور ان کے مؤقف کو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا۔
"بھارت کو خوش کرنے کی جلدبازی کیوں؟”
شیخ وقاص اکرم نے سوال اٹھایا کہ آخر بلاول بھٹو بھارت کو خوش کرنے کے لیے کیوں بے تاب ہیں؟
انہوں نے کہا کہ:
"بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں، بلاول بھٹو پاکستان کی خودمختاری، کشمیر کے موقف اور علاقائی سلامتی کے تقاضوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔”
بلاول پر دوغلے پن کا الزام
پی ٹی آئی رہنما نے بلاول پر دوغلی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا، اور کہا کہ:
"ایک طرف وہ کشمیر کا ذکر کرتے ہیں، دوسری طرف ایسے اقدامات کی بات کرتے ہیں جو کشمیری عوام کی قربانیوں سے غداری کے مترادف ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارتی مظالم، آبی جارحیت اور سرحد پار مداخلت جیسے مسائل پر بھارت کو جوابدہ بنانے کے بجائے، بلاول سی بی ایمز (اعتماد سازی کے اقدامات) کی پیشکش کر کے پاکستان کو عالمی سطح پر رسوا کر رہے ہیں۔
"قیادت میڈیا اسٹائل سے نہیں، عمل سے بنتی ہے”
شیخ وقاص اکرم نے بلاول کی سیاسی اہلیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا:
"قیادت میڈیا پر آنے یا اسٹائل دکھانے سے نہیں بنتی، اسے میدان عمل میں ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اگر پی پی پی واقعی بلاول کی بہتری چاہتی ہے تو پہلے انہیں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے دیں۔”
آصفہ کو قیادت دینے کی تجویز
پی ٹی آئی رہنما نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر پیپلز پارٹی اپنی بقا چاہتی ہے تو بلاول بھٹو کو قیادت چھوڑ کر آصفہ بھٹو زرداری کے حوالے کر دینی چاہیے، "جو کم از کم بلاول سے زیادہ سیاسی فہم اور سنجیدگی کی حامل دکھائی دیتی ہیں۔”
پس منظر
یاد رہے کہ ایک حالیہ انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر بھارت سنجیدہ تعاون کی خواہش ظاہر کرے تو پاکستان کو بعض "تشویشناک افراد” کی حوالگی پر اعتراض نہیں ہوگا، جسے انہوں نے اعتماد سازی کے لیے ایک اقدام قرار دیا تھا۔ تاہم، اس بیان پر ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
