پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے جمعے کے بجٹ اجلاس کے دوران بد نظمی، نعرے بازی، کاغذات پھاڑنے، اور حکومتی ارکان کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات پر 26 اپوزیشن اراکین کو پندرہ اجلاسوں کے لیے معطل کر دیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا:
"ایوان کی حرمت اور نظم و ضبط ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ کسی کو اسمبلی کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر رکن کا جمہوری حق ہے، مگر یہ آئین اور قواعد و ضوابط کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
اسپیکر کے مطابق، متعدد بار اپوزیشن کو پرامن رہنے کی تلقین کی گئی، مگر انہوں نے دانستہ طور پر ایوان کا نظم و ضبط بگاڑا اور اسپیکر کی اتھارٹی کو چیلنج کیا۔
معطل کیے گئے ارکان میں شامل ہیں:
ملک فرحاد مسعود، محمد تنویر اسلم، سید رفت محمود، یاسر محمود قریشی، کلیم اللہ خان، محمد انصر اقبال، علی آصف، ذوالفقار علی، احمد مجتبیٰ چوہدری، شاہد جاوید، محمد اسماعیل، خیال احمد، شہباز احمد، طیب رشید، امتیاز محمود، علی امتیاز، رشید طفیل، محمد مرتضیٰ اقبال، خالد زبیر نثار، چودھری محمد اعجاز شفیع، سائمہ کنول، محمد نعیم، سجاد احمد، رانا اورنگ زیب، شعیب امیر، اور اسامہ اصغر علی گجر۔
اس کے علاوہ، ویڈیو ثبوت کی بنیاد پر 10 اراکین پر فی کس 2 لاکھ 3 ہزار 550 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے جنہوں نے مائیک توڑے اور ایوان کو نقصان پہنچایا۔ ان میں چودھری جاوید کوثر، اسد عباس، رفت محمود، محمد اسماعیل، شہباز احمد، امتیاز محمود، خالد زبیر، رانا اورنگ زیب، اور محمد احسن علی شامل ہیں۔
اسپیکر نے خبردار کیا کہ سات دن میں جرمانہ ادا نہ کرنے والوں کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ معطل ارکان کے خلاف ایک ریفرنس الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کو بھیجا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے اسپیکر کے فیصلے کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا:
"اسپیکر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی تقریر کے دوران احتجاج نہ کریں، تو ہم پھر کس کے سامنے احتجاج کریں؟”
انہوں نے اعلان کیا کہ اپوزیشن ایوان کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھے گی۔
