پنجاب حکومت نے صوبے بھر کی 65 ہزار مساجد کے اماموں کے لیے ماہانہ اعزازیہ دینے کا فیصلہ کر لیا، منصوبہ جلد کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت نے صوبے بھر کی 65 ہزار مساجد کے اماموں کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس منصوبے کو مذہبی رہنماؤں کی خدمات کے اعتراف اور ان کے مالی استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ اوقاف اور مذہبی امور نے اس تجویز پر ابتدائی کام مکمل کر لیا ہے، جس کے تحت ہر امام مسجد کو 65 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ یا وظیفہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے لیے بجٹ تجاویز بھی تیار کر کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دی گئی ہیں۔
حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد امام مساجد کو معاشی طور پر مستحکم بنانا اور مذہبی و سماجی سطح پر ان کے کردار کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ امام حضرات نہ صرف عبادت گاہوں کی قیادت کرتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور امن کے پیغام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں بڑے شہروں کی مساجد کو شامل کیا جائے گا، جبکہ آئندہ مراحل میں اس کا دائرہ کار دیہی علاقوں تک بڑھایا جائے گا۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مستحق اماموں کا اندراج شفاف طریقہ کار کے تحت ہو۔
دوسری جانب مذہبی حلقوں اور عوامی نمائندوں نے اس فیصلے کو سراہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ امام مساجد کی فلاح و بہبود پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ معاشرتی سطح پر اخلاقی رہنمائی اور امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
اگرچہ حتمی نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہوا، مگر توقع ہے کہ اس منصوبے کو جلد کابینہ اجلاس میں پیش کر کے باقاعدہ منظوری دی جائے گی۔
