اسرائیل کے 2026 یومِ آزادی کی مرکزی تقریب کے لیے ربی ابراہام زربیف کا انتخاب ایک نئے تنازعے کا باعث بن گیا ہے۔ زربیف، جو ایک ربانی جج اور اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ بھی بتائے جاتے ہیں، کو یروشلم کے ماؤنٹ ہرزل میں ہونے والی مشعل روشن کرنے کی سرکاری تقریب کے لیے چنا گیا ہے۔ اسرائیل میں اس تقریب کو محض رسمی تقریب نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ ریاستی سطح پر سب سے نمایاں قومی تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
تنازع اس لیے بھڑکا کیونکہ زربیف کا نام غزہ جنگ کے دوران سامنے آنے والے ایسے بیانات اور ویڈیوز سے جوڑا جا رہا ہے جنہیں ناقدین نہایت اشتعال انگیز قرار دیتے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق، ان سے منسوب بیانات میں غزہ کو “مسمار” کرنے جیسی باتیں شامل رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا اور جنگی ریکارڈ سے جڑی بعض ویڈیوز نے بھی ان پر تنقید میں اضافہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سرکاری اعزاز کے لیے نامزدگی کو اسرائیل کے اندر اور باہر دونوں جگہ سخت ردعمل کا سامنا ہے۔
اس معاملے کو مزید سنگین اس وقت سمجھا گیا جب ہند رجب فاؤنڈیشن نامی تنظیم نے ان کے خلاف شکایت دائر کرنے کا اعلان کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے زربیف پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت کارروائی کی درخواست کی ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق یہ شکایت عوامی بیانات، ویڈیو شواہد اور جنگ کے دوران مبینہ کردار کی بنیاد پر تیار کی گئی۔ تاہم، یہ واضح رہے کہ اس مرحلے پر یہ الزامات ہیں، کسی عدالت کی جانب سے سزا یا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی حکومت کے حامی حلقے اس انتخاب کو بالکل مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک زربیف مذہبی صیہونی حلقوں، ریزرو فوجیوں اور جنگ کے دوران خدمات انجام دینے والوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تقریب کی نگران وزیر میری ریگیو کی جانب سے بھی یہی تاثر دیا گیا کہ یہ انتخاب ایک مخصوص قومی جذبے اور قربانی کے اعتراف کے طور پر کیا گیا ہے۔ لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ ریاستی سطح پر ایسے فرد کو نمایاں کرنا، جس پر جنگی جرائم جیسے سنگین الزامات لگ رہے ہوں، اسرائیل کی سیاسی ترجیحات کے بارے میں ایک بہت واضح پیغام دیتا ہے۔
یہ معاملہ محض ایک نامزدگی تک محدود نہیں رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ جنگ کے بعد دنیا بھر میں انفرادی ذمہ داری، جنگی طرزِ عمل، اور ممکنہ قانونی احتساب پر بحث پہلے ہی شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایسے ماحول میں زربیف کا انتخاب ایک علامتی فیصلہ بن گیا ہے۔ ناقدین کے نزدیک یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی قیادت جنگ سے جڑے متنازع چہروں کو بھی قومی ہیرو کے طور پر پیش کرنے سے ہچکچا نہیں رہی۔
اس سال کی تقریب کو مزید بین الاقوامی توجہ اس وجہ سے بھی ملی کہ منتخب شخصیات میں ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی کا نام بھی شامل بتایا گیا۔ یوں ایک داخلی اسرائیلی تنازع اب بین الاقوامی خبر بن چکا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ مشعل کون روشن کرے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک ریاست اپنے سب سے نمایاں قومی اسٹیج پر کس قسم کی علامتیں پیش کرنا چاہتی ہے۔
آخرکار، زربیف کی نامزدگی نے ایک بنیادی بحث کو پھر زندہ کر دیا ہے: کیا جنگ کے دوران سخت گیر بیانات اور متنازع کردار رکھنے والے افراد کو قومی شناخت اور ریاستی وقار کی علامت بنایا جانا چاہیے؟ اسرائیل کے حامی اس کا جواب ہاں میں دیتے ہیں۔ ناقدین اسے خطرناک معمول بنانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ اور شاید اصل خبر یہی ہے۔
