بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایران کے لیے امدادی مہم نے ایک غیر معمولی شکل اختیار کر لی ہے۔ مختلف علاقوں میں لوگ نقد رقم کے ساتھ ساتھ سونا، زیورات، تانبے کے برتن، مویشی، اور بچوں کی گلکوں میں جمع پونجی تک عطیہ کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک امدادی مہم نہیں رہی، بلکہ بہت سے کشمیریوں کے لیے یہ ہمدردی، مذہبی وابستگی اور جذباتی یکجہتی کا اظہار بن چکی ہے۔
اس مہم کی ایک نمایاں بات یہ ہے کہ عطیات عام خیرات کی حد سے آگے نکل گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق محلوں، امام بارگاہوں اور دوسری مقامی جگہوں پر جمع آوری کے مراکز قائم کیے گئے، جبکہ نوجوان رضاکار گھر گھر جا کر بھی چندہ اکٹھا کر رہے ہیں۔ کچھ خاندانوں نے وہ چیزیں بھی دے دیں جو عام طور پر برسوں سنبھال کر رکھی جاتی ہیں، جیسے شادی کے زیورات یا گھریلو قیمتی برتن۔
اس ردعمل کی ایک بڑی وجہ کشمیر اور ایران کے درمیان پرانے مذہبی اور ثقافتی روابط ہیں، خاص طور پر وادی کے شیعہ حلقوں میں۔ حالیہ رپورٹنگ میں یہ بات بار بار سامنے آئی ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے ایران کا بحران محض ایک بین الاقوامی خبر نہیں، بلکہ ایک ایسا دکھ ہے جسے وہ اپنے قریب محسوس کرتے ہیں۔ اسی احساس نے امدادی مہم کو محض مالی تعاون کے بجائے ایک اجتماعی جذباتی عمل میں بدل دیا ہے۔
اس خبر کا سب سے انسانی پہلو شاید بچوں اور خواتین کی شرکت ہے۔ بعض خواتین نے اپنی بالیاں، چوڑیاں اور دوسرے زیورات پیش کیے، جبکہ کئی بچوں نے اپنی گلکیں توڑ کر جمع شدہ رقم دے دی۔ کچھ رپورٹس میں ایسے واقعات بھی آئے ہیں جہاں لوگوں نے سائیکل، موٹرسائیکل یا دوسری ذاتی اشیا تک عطیہ کر دیں۔ یہی چیز اس خبر کو الگ بناتی ہے: یہاں لوگ فالتو رقم نہیں دے رہے، بلکہ وہ چیزیں دے رہے ہیں جن سے ان کی ذاتی وابستگی جڑی ہوئی ہے۔
عیدالفطر کے موقع پر اس مہم میں مزید تیزی آئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بہت سے لوگوں نے عید کو صرف تقریبات یا گھریلو مصروفیات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے خیرات اور امداد کے دن میں بدل دیا۔ کچھ خوشحال افراد نے نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے کے ریلیف اکاؤنٹ میں براہِ راست رقم بھی منتقل کی، جبکہ ایرانی سفارت خانے نے عوامی طور پر کشمیریوں کی یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔
اسی لیے یہ سوال کہ “کشمیر کے لوگ ایران کے لیے سونا اور گلکیں کیوں دے رہے ہیں؟” کا جواب صرف اتنا نہیں کہ وہ جنگ زدہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے پیچھے مذہبی احساس، تاریخی رشتہ، سیاسی شعور اور انسانی ہمدردی سب ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ کشمیر میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ عطیہ رقم سے زیادہ ایک پیغام ہے: دور بیٹھے لوگوں کا درد بھی اپنا محسوس ہو سکتا ہے، اور بعض اوقات سب سے قیمتی چیز ہی سب سے پہلے پیش کی جاتی ہے۔
