ممبئی انڈینز نے آئی پی ایل 2026 کے باقی سیزن کے لیے کرش بھاگت کو زخمی اتھرو انکولیکر کے متبادل کے طور پر اپنے اسکواڈ میں شامل کر لیا ہے۔ لیگ کی جانب سے 16 اپریل 2026 کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق بھاگت 21 سالہ کھلاڑی ہیں، پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں، رائٹ آرم میڈیم پیسر ہیں، اور وہ 7 فرسٹ کلاس اور 9 لسٹ اے میچ کھیل چکے ہیں۔ انہیں 30 لاکھ بھارتی روپے کی بنیادی قیمت پر سائن کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ممبئی انڈینز کے لیے ایک مجبوری بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ انکولیکر، جو بائیں ہاتھ کے اسپننگ آل راؤنڈر ہیں، اس سیزن میں پہلی بار ممبئی انڈینز کے لیے کھیلنے کے قریب تھے، مگر گھٹنے کی انجری نے ان کا پورا آئی پی ایل مہم شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دی۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق انہیں مینسکس ٹیر ہوا، جس کے بعد سرجری کرانا پڑی، اور اسی وجہ سے وہ آئی پی ایل 2026 سے باہر ہو گئے۔
ممبئی کی نظر سے دیکھا جائے تو بھاگت کا انتخاب سیدھا سادا “لائک فار لائک” ریپلیسمنٹ نہیں ہے۔ انکولیکر ایک اسپن آل راؤنڈر تھے، جبکہ بھاگت بنیادی طور پر سیمر ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فرنچائز نے صرف خالی جگہ پُر کرنے کے بجائے اسکواڈ بیلنس اور مستقبل کی صلاحیت کو ترجیح دی ہے۔ آئی پی ایل میں ایسے فیصلے اکثر سیزن کے درمیان اسی وقت کیے جاتے ہیں جب ٹیمیں کم خرچ مگر امکانات رکھنے والے ڈومیسٹک کھلاڑیوں پر داؤ لگاتی ہیں۔
کرش بھاگت کے لیے یہ موقع غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا ڈومیسٹک کیریئر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے ممبئی انڈینز جیسی بڑی فرنچائز میں شمولیت ان کے لیے ایک بڑا قدم سمجھی جائے گی۔ بظاہر یہ وہ قسم کی خاموش مگر معنی خیز سائننگ ہے جو بعد میں جا کر خاصی اہم ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر ٹیم کو سیزن کے اگلے حصے میں بولنگ وسائل کو گھمانا پڑا۔
دوسری طرف انکولیکر کی کہانی کافی تلخ ہے۔ وہ ممبئی انڈینز کے 2026 اسکواڈ کا حصہ تھے، مگر جنوری میں رانجی ٹرافی کے دوران لگنے والی انجری نے ان کی پہلی آئی پی ایل شرکت روک دی۔ اس نوعیت کی انجری کسی بھی نوجوان کرکٹر کے لیے بڑا دھچکا ہوتی ہے، خاص طور پر تب جب وہ کیریئر کے اہم موڑ پر ہو۔ پھر بھی، موجودہ صورتحال یہی ہے کہ ممبئی نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اب ساری نظریں اس بات پر ہوں گی کہ کرش بھاگت اس موقع سے کیا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
