امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک اور کشتی کو نشانہ بنایا ہے، جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ یو ایس سدرن کمانڈ کے مطابق یہ کشتی ایک ایسے راستے پر جا رہی تھی جسے منشیات اسمگلنگ کا معروف روٹ قرار دیا جاتا ہے، اور اسے ایک “نامزد دہشت گرد تنظیم” سے منسلک بتایا گیا۔ تاہم فوج نے مرنے والوں کی شناخت، کشتی پر موجود سامان، یا حملے کے درست مقام کی عوامی سطح پر تفصیل جاری نہیں کی۔
یہ حملہ چند ہی دنوں میں ہونے والی ایسی کئی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق 11 اپریل کو دو حملوں میں پانچ افراد مارے گئے اور ایک شخص زندہ بچا، 13 اپریل کو ایک اور حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 14 اپریل کے حملے میں چار افراد مارے گئے۔ اس نئی کارروائی کے بعد صرف چند دنوں میں ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 14 تک پہنچ گئی ہے۔
اس خبر کا اہم پہلو صرف یہ نہیں کہ ایک اور کشتی تباہ ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ امریکہ اب سمندر میں روایتی گرفتاری یا ضبطی کے بجائے براہِ راست مہلک فوجی حملے کر رہا ہے۔ سدرن کمانڈ کے بیانات میں ان کارروائیوں کو “لیthal kinetic strikes” کہا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر کر رہی ہے، جس کی نگرانی جنرل فرانسس ایل ڈونووَن کے تحت ہو رہی ہے۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ نشانہ بنائی گئی کشتیاں منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھیں، لیکن اب تک عوام کے سامنے جو شواہد آئے ہیں وہ محدود نوعیت کے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان حملوں پر قانونی اور انسانی حقوق کے حوالے سے سخت سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین اور حقوقِ انسانی کے وکلا کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے اب تک کھلے طور پر یہ ثابت نہیں کیا کہ کشتیوں پر سوار تمام افراد جنگی ہدف تھے یا واقعی منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ گارڈین اور دیگر اداروں کی رپورٹنگ کے مطابق ان حملوں کو ممکنہ ماورائے عدالت ہلاکتیں قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ انہیں کارٹیلز کے خلاف وسیع مہم کا حصہ بتا رہی ہے۔
اس مہم پر دباؤ اس لیے بھی بڑھ رہا ہے کہ ستمبر 2025 سے شروع ہونے والی اسی کارروائی میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد مسلسل اوپر جا رہی ہے۔ 11 اپریل کے حملوں کے بعد اے پی نے یہ تعداد کم از کم 168 بتائی تھی، 13 اپریل کے بعد رپورٹوں میں یہ 170 تک پہنچی، اور 14 اپریل کے بعد 174 کا عدد سامنے آیا۔ آج کے تازہ حملے کے بعد یہ مجموعی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، اگرچہ حتمی سرکاری اپ ڈیٹ ابھی سامنے نہیں آئی۔
ایک اور سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا یہ حملے واقعی منشیات کی ترسیل روکنے میں فیصلہ کن ثابت ہو رہے ہیں؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پہنچنے والی بڑی مقدار میں فینٹانل زمینی راستوں سے آتی ہے، خاص طور پر میکسیکو کے ذریعے، اس لیے مشرقی بحرالکاہل میں چھوٹی کشتیوں پر حملے شاید مسئلے کے صرف ایک حصے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی لیے اس پالیسی کی افادیت، قانونی حیثیت اور شفافیت تینوں پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔
فی الحال تصویر یہی ہے: ایک اور کشتی، ایک اور حملہ، تین مزید ہلاکتیں، اور ساتھ ہی وہی پرانا سوال — آخر نشانہ بننے والے لوگ کون تھے، اور کیا ان کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کے لیے واقعی کافی ثبوت موجود تھے؟ جب تک امریکی حکومت اس بارے میں زیادہ واضح معلومات جاری نہیں کرتی، یہ خبر صرف ایک فوجی کارروائی نہیں رہے گی بلکہ ایک بڑھتے ہوئے قانونی اور اخلاقی تنازع کی علامت بنی رہے گی۔
