خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے 13 اپریل سے شروع ہونے والی ملک گیر پولیو مہم کے سلسلے میں عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
وفاقی دارالحکومت سے جاری اپنے پیغام میں آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ ملک گیر پولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور تعاون کریں اور یقینی بنائیں کہ ہر بچہ اس بیماری سے محفوظ رہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اِس مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو ملک کے تمام صوبوں اور علاقوں میں انسدادِ پولیو کے قطرے پلانا ہے، جو پولیو کے خاتمے کی قومی کوششوں کا حصہ ہے۔
خاتونِ اوّل کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وائرس کے خلاف جنگ میں ایک اہم مرحلے پر کھڑا ہے، برسوں کی مسلسل کوششوں کے بعد ملک پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ چکا ہے اور اب آنے والا مرحلہ انتہائی اہم ہے، جہاں ہر بچے تک پہنچنا ضروری ہے۔
آصفہ بھٹو نے کہا کہ 13 سے 19 اپریل تک فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر ویکسینیشن کریں گے، جس میں شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں کا بھی احاطہ کیا جائے گا، پولیو کے قطرے پلانے کے ساتھ بچوں کو وٹامن اے بھی دیا جائے گا تاکہ ان کی قوتِ مدافعت اور صحت مند نشوونما میں مدد ملے۔
خاتونِ اوّل نے پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2025 میں ملک بھر میں پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2026 میں اب تک صرف ایک کیس سامنے آیا ہے۔
آصفہ بھٹو نے خبردار کیا کہ خطرہ اب بھی موجود ہے۔ جب تک یہ وائرس کہیں بھی موجود ہے، ہر جگہ کے لیے خطرہ بنا رہتا ہے۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوں پر زور دیا کہ وہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور معمول کی ویکسینیشن بھی مکمل کروائیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ مہم افغانستان کے ساتھ مل کر چلائی جائے گی، جو سرحد پار وائرس کی منتقلی روکنے اور باقی رہ جانے والے خلا کو ختم کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔
علاوہ ازیں خاتونِ اوّل نے فرنٹ لائن ورکرز کی خدمات کو بھی سراہا، جن کی مسلسل محنت ہر گھر تک رسائی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے اجتماعی عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ اب قریب ہے اور اس کا دارومدار والدین، خاندانوں، برادریوں اور اداروں سب کی مشترکہ کوششوں پر منحصر ہے، انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بچہ بھی اس مہم سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
