برطانیہ میں ایک خیراتی ادارے نے جنگلی حیات کی بحالی کے لیے فنڈ ریزنگ مہم تیز کر دی ہے، جس کا مقصد ایک اہم قدرتی مقام کو محفوظ بنا کر وہاں معدوم ہوتی انواع اور نایاب پرندوں کے لیے بہتر مسکن تیار کرنا ہے۔ شروپشائر وائلڈ لائف ٹرسٹ نے بیچکاٹ ہِل نامی 50 ہیکٹر رقبے کے حصول اور بحالی کے لیے اپیل شروع کی تھی، اور ادارے کے مطابق یہ جگہ مقامی حیاتیاتی تنوع کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
یہ مقام شروپشائر ہِلز کے علاقے میں اسٹائپر اسٹونز اور لانگ مائنڈ کے درمیان واقع ہے۔ ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہاں پہلے ہی میڈو پِپِٹ، اسکائی لارک اور گھونسلہ بنانے والے کرلیو جیسے پرندے پائے جاتے ہیں، مگر کئی انواع دباؤ میں ہیں اور ان کی افزائشِ نسل متاثر ہوئی ہے۔ اسی لیے ادارہ اس زمین کو صرف خریدنا نہیں چاہتا بلکہ اسے طویل مدتی ماحولیاتی بحالی کے منصوبے کے تحت دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے۔
ادارے کی منصوبہ بندی کے مطابق اس علاقے میں فطرت دوست چرائی، مقامی گھاس اور پودوں کی بحالی، اور بہتر رہائشی ماحول کی تیاری پر کام کیا جائے گا تاکہ کرلیو، کوکو، لیپ وِنگ، سنیپ، بلبیری بمبل بی اور اسمال پرل بارڈرڈ فریٹیلری تتلی جیسی انواع کو فائدہ پہنچے۔ رپورٹوں کے مطابق کرلیو کے ایک جوڑے نے کئی برس سے کامیابی سے بچے نہیں نکالے، جس کی ایک وجہ شکاری پرندوں کا دباؤ اور کمزور مسکن بھی ہے۔
شروپشائر وائلڈ لائف ٹرسٹ نے کہا ہے کہ اس مہم کا ایک اہم پہلو عوامی شمولیت بھی ہے۔ ادارہ حساس حصوں کو افزائشی موسم میں محفوظ رکھتے ہوئے لوگوں کے لیے رسائی بہتر بنانا چاہتا ہے تاکہ فطرت سے تعلق بڑھے اور مقامی سطح پر تحفظِ ماحول کے لیے حمایت پیدا ہو۔ ٹرسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق بیچکاٹ ہِل اب اس کی بحالی کی ترجیحات میں شامل ہے، اور رضاکاروں، عطیہ دہندگان اور ارکان کی مدد سے وہاں عملی کام بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
اس مہم کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ برطانیہ میں جنگلی حیات کے زوال پر پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے۔ وائلڈ لائف ٹرسٹس کی ایک وسیع مہم کے مطابق ملک میں ہر چھ میں سے ایک نوع کے معدومی کے خطرے سے دوچار ہونے کا خدشہ ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اب صرف باقی ماندہ فطرت کو بچانا کافی نہیں بلکہ تباہ شدہ علاقوں کو بحال کرنا بھی ضروری ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں بیچکاٹ ہِل جیسی مہمات محض چند پرندوں یا تتلیوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ یہ ایک بڑے تصور کا حصہ بنتی ہیں: زمین، گھاس زار، حشرات، پرندے اور مقامی آبادی—سب کو ساتھ لے کر ایک ایسا قدرتی نظام واپس لانا جو وقت کے ساتھ خود کو سنبھال سکے۔ یہی وجہ ہے کہ خیراتی ادارے اب روایتی تحفظ سے آگے بڑھ کر “بحالی” پر زور دے رہے ہیں۔
