نئی دہلی — بھارتی پارلیمنٹ (لوک سبھا) میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر وزیراعظم نریندر مودی پر ’’ووٹ چوری‘‘ کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس اس حوالے سے ’’سیاہ و سفید‘‘ ثبوت موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو میں راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے پریس کانفرنس کے دوران جو حقائق پیش کیے وہ بالکل واضح ہیں۔ کرناٹک میں سی آئی ڈی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے مگر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ضروری معلومات فراہم نہیں کر رہے۔‘‘
راہل گاندھی نے کہا کہ پولیس نے خاص طور پر ان فون نمبروں کے بارے میں ڈیٹا طلب کیا ہے جو مبینہ طور پر ووٹ چوری کے لیے استعمال ہوئے تھے، تاہم الیکشن کمیشن تعاون نہیں کر رہا۔ ان کے بقول ’’یہ خود سب سے بڑا ثبوت ہے کہ معاملے میں کچھ چھپایا جا رہا ہے۔‘‘
کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ مہادیو پورہ اور نالندہ کے شواہد منظرِ عام پر آنے کے بعد اب کسی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ انتخابات میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’ہم جلد ایک بڑا انکشاف کرنے جا رہے ہیں جو پورے منظرنامے کو بدل دے گا کیونکہ ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں۔‘‘
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن پہلے ہی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے چکا ہے اور کہا ہے کہ انتخابی عمل شفاف رہا۔
