نواز شریف ڈسٹرکٹ میڈیکل سٹی لاہور میں چلڈرن اسپتال فیز ٹو کے منصوبے کے لیے تیسری بار نظرثانی شدہ پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے۔ محکمہ صحت اور آئی ڈیپ کی جانب سے یہ پی سی ون پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) بورڈ کو جمع کرا دیا گیا ہے۔
نئے پی سی ون کے مطابق اسپتال کی گنجائش 989 بستروں تک محدود کر دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل منصوبے میں 1039 بیڈز رکھنے کی تجویز دی گئی تھی۔
حکام کے مطابق منصوبے کی مجوزہ لاگت کا تخمینہ 94 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے مجموعی لاگت 108 ارب روپے مقرر کی گئی تھی، جسے نظرثانی کے بعد کم کر دیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق چلڈرن اسپتال فیز ٹو کی عمارت کا مجموعی رقبہ 21 لاکھ 76 ہزار مربع فٹ تجویز کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت بچوں میں خون کی بیماریوں کے علاج کے لیے جدید طبی ادارہ بھی قائم کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے میں علاج کے ساتھ ساتھ تحقیقاتی سہولیات بھی شامل ہوں گی جبکہ خصوصی بچوں کی صحت کی خدمات بہتر بنانے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے جائیں گے۔
چلڈرن اسپتال فیز ٹو پنجاب میں بچوں کے لیے جدید طبی سہولیات کی فراہمی کا ایک بڑا مرکز ثابت ہوگا جس سے صوبے بھر سے آنے والے مریض بچوں کو بہتر علاج کی سہولیات میسر آئیں گی۔
