ماہرینِ فلکیات نے ملکی وے کہکشاں کے بارے میں نئی اور حیران کن معلومات حاصل کی ہیں، جن سے اس کی ساخت، تاریخ اور اربوں سال سے جاری ارتقائی عمل کو پہلے سے بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملی ہے۔
جدید خلائی دوربینوں، ریڈیو رصدگاہوں اور یورپی خلائی ادارے کے گائیا مشن سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے سائنسدانوں نے لاکھوں ستاروں کا انتہائی درست نقشہ تیار کیا ہے۔ اس تحقیق کے دوران پہلے سے نامعلوم ستاروں کے جھرمٹ ، قدیم ستاروں کی پٹیاں اور ایسے شواہد ملے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ماضی میں ملکی وے کئی چھوٹی کہکشاؤں کے ساتھ ٹکرا کر موجودہ شکل اختیار کرتی رہی۔
ماہرین کے مطابق ملکی وے ایک بارڈ اسپائرل کہکشاں ہے، جس کا قطر تقریباً ایک لاکھ نوری سال ہے اور اس میں 100 سے 400 ارب کے درمیان ستارے موجود ہیں۔ ہمارا شمسی نظام اس کہکشاں کے مرکز سے تقریباً 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ مرکز میں موجود سپر میسیو بلیک ہول "سیجیٹیریئس اے” کہکشاں کی حرکیات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اربوں سال پہلے ملکی وے نے کئی چھوٹی کہکشاؤں کو اپنے اندر جذب کیا، جس کے نتیجے میں اس کی موجودہ ساخت تشکیل پائی۔ ان تصادمات نے نئے ستاروں کی پیدائش کو فروغ دیا اور ان کے آثار آج بھی ستاروں کی طویل پٹیوں کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
سائنسدان کہکشاں میں موجود گیس اور گرد و غبار کے عظیم بادلوں کا بھی مطالعہ کر رہے ہیں، جہاں آج بھی نئے ستارے اور سیاروی نظام تشکیل پا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کے مطالعے سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ تقریباً 4.6 ارب سال پہلے ہمارا سورج اور شمسی نظام کس طرح وجود میں آیا۔
جدید مصنوعی ذہانت، ہائی ریزولوشن تصاویر اور کمپیوٹر سمولیشنز کی بدولت سائنسدان ملکی وے کی تاریخ اور ارتقا کو پہلے سے کہیں زیادہ درست انداز میں سمجھنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں کی تحقیق کے باوجود ملکی وے کا ایک بڑا حصہ اب بھی پراسرار ہے۔ ڈارک میٹر، پوشیدہ ستاروں کی آبادی اور کہکشاں کے بیرونی حصوں کی مکمل ساخت آج بھی فلکیات کے اہم ترین معمہ جات میں شامل ہیں۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل کے خلائی مشنز اور جدید ترین دوربینیں ملکی وے کہکشاں کے مزید راز بے نقاب کریں گی اور ہمیں کائنات میں اپنی جگہ اور اس کے ارتقا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔
