اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پیر کے روز توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں مسلسل عدم حاضری پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور دیگر رہنماؤں کے خلاف اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کر دیا۔
جج طاہر عباس سپرا نے یہ احکامات پولیس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کی روشنی میں جاری کیے، جس میں بتایا گیا کہ ملزمان تاحال اپنی رہائش گاہوں پر موجود نہیں ہیں اور نہ ہی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ عدالت کی جانب سے علی امین گنڈاپور کو ‘اشتہاری’ قرار دینے کے بعد اب قانونی طور پر ان کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ضبط کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ مقدمات وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے سیاسی احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور ہنگامہ آرائی کے الزامات کے تحت درج کیے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ کی قانونی ٹیم ماضی میں ان کی عدم حاضری کی وجہ سرکاری مصروفیات کو قرار دیتی رہی ہے، تاہم عدالت نے اس عذر کو مسترد کرتے ہوئے کارروائی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
اشتہاری قرار دینے کا عمل قانونی طور پر ایک حتمی انتباہ ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اشتہارات اخبارات میں شائع کروائے جائیں اور انہیں عوامی مقامات پر آویزاں کیا جائے۔ اگر مقررہ مدت کے اندر ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوتے، تو ان کی جائیداد قرق کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
یہ پیش رفت پشاور کی صوبائی حکومت اور وفاقی انتظامیہ کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے لیے اپنے سب سے سینئر صوبائی عہدیدار کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہونا ایک بڑا دھچکا ہے، جو پارٹی کی مرکز کے ساتھ جاری محاذ آرائی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
عدالت نے سماعت کو آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دیا ہے، جس تک حکام کو اشتہاری کارروائی کی تعمیلی رپورٹ جمع کروانی ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعلیٰ عدالت کے روبرو پیش ہو کر اپنی جائیداد کو قرق ہونے سے بچائیں گے یا یہ معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کرے گا۔
