لا پرائیر، ٹیکساس — امریکی محکمہ زراعت نے جمعے کے روز ریاست ٹیکساس میں گوشت خور ‘اسکرو ورم’ نامی مہلک طفیلیے (parasite) کے دوسرے کیس کی تصدیق کی ہے، جو کہ اسی علاقے میں دہائیوں بعد سامنے آنے والے پہلے کیس کے مقام سے محض چند میل کے فاصلے پر پایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، یہ نیا کیس ٹیکساس کی زوالا کاؤنٹی کے ایک فارم پر پایا گیا ہے جو بدھ کے روز سامنے آنے والے پہلے کیس کے مقام سے صرف 5.6 میل (9 کلومیٹر) دور ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے تحت کام کرنے والے ادارے ‘ایفس’ نے بتایا کہ یہ انفیکشن ایک ماہ کے بچھڑے میں پایا گیا ہے، جس کی تصدیق علاقے میں متعدد مشتبہ جانوروں کے ٹیسٹ کرنے کے بعد ہوئی۔
ٹیکساس اینیمل ہیلتھ کمیشن اور وفاقی حکام اس وبائی کیڑے کو پھیلنے سے روکنے کے لیے قریبی علاقوں سے جانوروں کے نمونے جمع کر رہے ہیں، تاہم اب تک لیے گئے دیگر تمام نمونوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
ٹیکساس کے سرحدی قصبے ‘لا پرائیر’ میں ان کیسز کا سامنے آنا امریکی لائیو اسٹاک اور مویشی پالنے والے کسانوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ امریکی کسان گزشتہ ایک سال سے اس خطرناک کیڑے کے حملے سے نمٹنے کی تیاریاں کر رہے تھے، جو میکسیکو کے راستے مسلسل شمال کی جانب یعنی امریکہ کی سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا۔
‘اسکرو ورم’ دراصل ایک طفیلی مکھی ہے جو گرم خون والے جانوروں کے کھلے زخموں یا جلد پر اپنے انڈے دیتی ہے۔ ان انڈوں سے نکلنے والے لاوے (کیڑے) زندہ گوشت کو کھانا شروع کر دیتے ہیں اور جلد کے اندر تک سوراخ کر دیتے ہیں، جس کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو جانور کی دردناک موت واقع ہو جاتی ہے۔
یاد رہے کہ 1960 کی دہائی میں امریکہ کی سرحدی ریاستوں میں اس کیڑے کے پھیلاؤ نے جنگلی حیات کو شدید نقصان پہنچایا تھا اور فارم مالکان کو کروڑوں ڈالرز کا مالی نقصان ہوا تھا۔ اب ٹیکساس میں، جو کہ امریکہ میں سب سے زیادہ مویشی پیدا کرنے والی ریاست ہے، اس کیڑے کا دوبارہ پھیلنا معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے، جس سے نہ صرف جانوروں کی اموات ہوں گی بلکہ ان کی دیکھ بھال اور علاج کے اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔
اس خطرے کو محدود کرنے کے لیے، واشنگٹن حکومت نے گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے میکسیکو سے زندہ مویشیوں کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کیڑے کو روکنے کے لیے لاکھوں ڈالرز کے فنڈز جاری کیے ہیں، جن کے تحت بانجھ مکھیوں کی پیداوار، کیڑوں کو پکڑنے کے نیٹ ورک اور مویشیوں کی سخت نگرانی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
