بنوں: ضلع بنوں کی وزیر سب ڈویژن کے پہاڑی علاقے مارکہ بیرا میں ہفتے کے روز دو علیحدہ دھماکوں میں کم از کم سات افراد جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوگئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) یاسر آفریدی کے مطابق دونوں دھماکے پھنگ موسیٰ خیل کے علاقے میں پیش آئے، جہاں دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق پہلا دھماکا ایک مسافر ڈاٹسن گاڑی کو اس وقت نشانہ بنا کر کیا گیا جب وہ ڈومیل کی جانب جا رہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
عینی شاہدین کے مطابق زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ تقریباً ایک کلومیٹر دور دوسرا دھماکا ہوا، جس میں ایک اور گاڑی تباہ ہوگئی اور دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔
پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں دونوں واقعات کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے قرار دیتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو ڈومیل رورل ہیلتھ سینٹر اور خلیفہ گل نواز ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ مزید دھماکا خیز مواد کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر علاقے کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی مکمل صحت یابی کی دعا کی۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی دھماکوں کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
حالیہ واقعہ بنوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور سیکیورٹی خدشات کی ایک اور مثال ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ضلع میں متعدد حملے ہو چکے ہیں جن میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
